حیات طیبہ

by Other Authors

Page 305 of 492

حیات طیبہ — Page 305

305 سے یاد کیا۔جب اس کتاب کی اشاعت پر ایک برس گزر گیا تو اس نے حضرت اقدس کے خلاف ایک اور کتاب لکھی اور اس میں اپنی ہلاکت کو دعوت دینے کے لئے مباہلہ کی دعا بھی درج کی۔قدرت حق دیکھئے کہ جب مباہلہ کا مضمون اس نے کاتب کے حوالہ کیا۔تو ابھی وہ کا پیاں پتھر پر جمنے بھی نہ پائی تھیں کہ اس کے دونوں لڑ کے طاعون میں مبتلا ہو کر مر گئے۔اور آخر ۱/۴ پریل ۱۹۰۶ ء کو اپنے لڑکوں کی موت سے دو تین روز بعد خود بھی طاعون کا شکار ہو گیا اور لوگوں پر ظاہر کر گیا کہ کون صادق ہے اور کون کا ذب فاعتبروا یا اولی الابصار حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا نکاح۔اکتوبر ۱۹۰۲ء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ) کا نکاح حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کی دختر نیک اختر حضرت محمودہ بیگم صاحبہ کے ساتھ ہونا قرار پایا تھا۔ڈاکٹر صاحب موصوف چونکہ اس زمانہ میں بسلسلہ ملازمت رڑکی (یو پی) میں مقیم تھے۔اس لئے ابتدائے اکتوبر ۱۹۰۲ء میں حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب کی قیادت میں چند احباب پر مشتمل ایک مختصری پارٹی رڑ کی گئی اور نکاح کی تقریب میں شامل ہو کر ۵ اکتو بر ۱۹۰۲ء کو واپس قادیان آگئی۔نکاح کا اعلان حضرت مولانا موصوف نے ایک ہزار روپیہ مہر پر کیا تھا۔رخصتانہ اگلے سال اکتوبر ۱۹۰۳ء میں ہوا۔جبکہ حضرت ڈاکٹر صاحب موصوف آگرہ میڈیکل کالج میں پروفیسر تھے۔رخصتانہ حاصل کرنے کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جمعیت حضرت میر ناصر نواب صاحب قادیان سے آگرہ گئے اور ۱۱ اکتوبر ۱۹۰۳ ء کو واپس دار الامان تشریف لے آئے۔فالحمد للہ علی ذلک۔اخبار البدر کا اجراء محترم با بومحمد افضل صاحب مشرقی افریقہ کے محکمہ ریلوے میں ملازم تھے۔۱۹۰۲ء میں وہ ریٹائر ہو کر واپس پنجاب تشریف لائے اور قادیان دارالامان میں سکونت اختیار کر لی۔چونکہ قابل اور صاحب قلم تھے اس لئے ستمبر ۱۹۰۲ء میں قادیان سے ایک اخبار القادیان جاری کیا لیکن اگلے ہی مہینے یعنی اکتوبر ۱۹۰۲ ء کو اس اخبار کا نام بدل کر ” البدر رکھ دیا۔محترم بابو صاحب مارچ ۱۹۰۵ء میں وفات پاگئے۔ان کی زندگی میں یہ اخبار عمدگی کے ساتھ چلتا رہا۔بابو صاحب مرحوم اپنے اخبار میں حضرت اقدس کی ڈائری بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کیا کرتے تھے۔ان کی وفات کے بعد کچھ مدت تک اخبار بند رہا۔پھر تیس مارچ کو حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے اس کام کو سنبھال لیا۔مگر بابو صاحب مرحوم تو اخبار کے کلیہ مالک تھے۔اب اس نئے دور میں اخبار کے مالک حضرت میاں له الحکم ۱۲ اکتوبر ۱۹۰۳