حیات طیبہ — Page 304
304 جس کی وجہ سے آپ کی جماعت طاعون کے عذاب سے محفوظ رہی۔چراغدین جھوٹی کی ہلاکت اپریل ۱۹۹۲ء کی بات ہے کہ ایک شخص چراغدین جمونی نام جو حضرت اقدس کے مریدوں میں شامل تھا وہ اس خبط میں مبتلا ہو گیا کہ میں عیسی کا رسول ہوں اور خدا کی طرف سے اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں صلح کراؤں اور قرآن و انجیل کا باہمی تفرقہ دُور کروں۔حضرت اقدس کو جب اس امر کا علم ہوا تو آپ نے جناب باری میں توجہ کی۔اس پر آپ کو اس کی نسبت الہام ہوا کہ : نزل به جبیر۔یعنی اس پر جہیز نازل ہوا۔اور اسی کو اس نے الہام یار و یا سمجھ لیا۔جہیز دراصل خشک اور بے مزہ روٹی کو کہتے ہیں جس میں کوئی حلاوت نہ ہو اور مشکل سے ہی حلق میں سے اُتر سکے اور مرد بخیل اور ٹیم کو بھی کہتے ہیں۔جس کی طبیعت میں کمینگی اور فر ما ئیگی اور بخل کا حصہ زیادہ ہو۔اور اس جگہ جہیز سے مراد وہ حدیث النفس اور اضغاث الاحلام ہیں جن کے ساتھ آسمانی روشنی نہیں۔اور بخل کے آثار موجود ہیں۔اور ایسے خیالات خشک مجاہدات کا نتیجہ یا تمنا اور آرزو کے وقت القائے شیطانی ہوتا ہے اور یا خشکی اور سوداوی مواد کی وجہ سے کبھی آرزو کے وقت ایسے خیالات کا دل پر القاء ہو جاتا ہے اور چونکہ ان کے نیچے کوئی روحانیت نہیں ہوتی اس لئے الہی اصطلاح میں ایسے خیالات کا نام جبیز ہے اور علاج تو بہ واستغفار اور ایسے خیالات سے اعراض کلّی ہے۔ورنہ جہیز کی کثرت سے دیوانگی کا اندیشہ ہے۔خدا ہر ایک کو اس بلا سے محفوظ رکھے۔‘لے پھر ایک رات جب چاند گرہن ہو رہا تھا۔حضرت اقدس کو اس کی نسبت الہام ہوا۔إنِّي أُذِيبُ مَن يُرِیب میں فنا کر دوں گا۔میں غارت کر دوں گا۔میں غضب نازل کروں گا۔اگر اس نے شک کیا اور اس پر ایمان نہ لایا اور رسالت اور مامور ہونے کے دعویٰ سے تو بہ نہ کی۔“ خص مولوی محمد احسن صاحب امروہی کا دوست تھا۔ان کے زور دینے پر پہلے تو اُس نے ۱/۲۷ پریل ۱۹۰۲ ءکو اپنا تو بہ نامہ لکھ کر بھیج دیا جو الحکم میں شائع کر دیا گیا سے مگر کچھ عرصہ بعد پھر اس پر وہی جنون مسلط ہو گیا اور اس دفعہ اس نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ اپنے دعویٰ کی اشاعت کرنا شروع کردی۔بلکہ حضرت اقدس کی مخالفت میں ایک کتاب بھی لکھی۔جس کا نام اس نے ”منارۃ اسی “ رکھا۔اور حضور کو نعوذ باللہ دجال معہود کے نام لے دافع البلاء صفحہ ۴۳، حاشیہ نمبر ا سے دافع البلاء صفحه ۴۳، حاشیہ نمبر ۲ سے الحکم ۱/۳۰ پریل ۱۹۰۲ء