حیات طیبہ

by Other Authors

Page 306 of 492

حیات طیبہ — Page 306

306 معراج الدین صاحب عمر تھے اور ایڈیٹر حضرت مفتی صاحب۔ایک تبدیلی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی ہدایت کے مطابق یہ بھی عمل میں آئی کہ اخبار کا نام ”البدر کی بجائے ”بدر کر دیا گیا۔حضرت مفتی صاحب نے بھی حضرت اقدس کی زندگی میں اخبار کو دلچسپ بنانے میں بڑی محنت اور جانفشانی سے کام کیا۔آپ بھی بڑے التزام کے ساتھ حضرت اقدس کی ڈائری اور الہامات شائع فرماتے رہے۔دراصل یہ دونوں اخبار الحکم اور البدر یا بدر حضرت اقدس کے دو بازو تھے۔جنہوں نے سلسلہ حقہ کی اشاعت میں خوب ہی حصہ لیا۔اللہ تعالیٰ ان کے مدیروں کو جزائے خیر دے۔انہوں نے عظیم الشان کارنامہ انجام دیا۔مناظرہ بمقام مد ضلع امرتسر ۲۹-۳۰/اکتوبر ۱۹۰۲ء منشی محمد یوسف صاحب اور محمد یعقوب صاحب دو بھائی تھے جو موضع مدضلع امرتسر کے رہنے والے تھے۔پہلے منشی صاحب نے بیعت کی مگر وہ چونکہ بسلسلہ ملازمت مردان ضلع پشاور میں رہتے تھے اس لئے گاؤں میں کوئی ہلچل نہیں مچی ،لیکن جب ان کے بھائی محمد یعقوب صاحب نے بھی بیعت کر لی تو وہ چونکہ گاؤں میں رہتے تھے اس لئے ان کی شدید مخالفت شروع ہوگئی۔حتی کہ گاؤں کے لوگوں نے اُن کا مقاطعہ کر دیا۔انہوں نے اپنے بھائی منشی محمد یوسف صاحب کو لکھا۔وہ رخصت لے کر گاؤں میں پہنچے۔لوگوں کو بہتر سمجھایا۔مگر وہ اپنی مخالفت پر قائم رہے۔آخر یہ فیصلہ ہوا کہ اختلافی مسائل پر مناظرہ کر لیا جائے۔انہوں نے قادیان پہنچ کر حضرت اقدس کی خدمت میں اس فیصلہ کی اطلاع دی۔حضرت اقدس کو تو مناظروں سے نفرت تھی خصوصا تقریری مناظروں سے مگر ان کے اصرار کی وجہ سے حضور نے مان لیا اور اپنی طرف سے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کو مناظرہ کے لئے بھیج دیا۔دوسری طرف سے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری تھے۔مورخہ ۳۰،۲۹ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو مناظرہ ہوا۔فریقین کی تقریروں کے لئے ۲۰- ۲۰ منٹ مقرر ہوئے۔حیات و ممات مسیح ناصری علیہ السلام اور نزول مسیح پر بحث شروع ہوئی۔جب مولوی ثناء اللہ صاحب نے دیکھا کہ دلائل کے میدان میں تو میں بالکل تهیدست ہوں تو انہوں نے حضرت اقدس کی ذات پر حملے شروع کر دیئے اور خوب اشتعال انگیزی کی۔حتی کہ بلوہ کا خطرہ پیدا ہو گیا۔یہ حالات دیکھ کر سمجھدار لوگوں نے مناظرہ بند کر وا دیا۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب جب حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچے۔تو ساری سرگذشت کہہ سنائی۔حضرت اقدس نے سارا واقعہ سن کو مولوی ثناء اللہ صاحب کی تین باتیں قابل جواب سمجھیں۔یعنی اول یہ کہ بقول مولوی ثناء اللہ صاحب حضرت اقدس کی تمام پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں۔دوم یہ کہ میں مرزا صاحب سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔سوم یہ کہ جب حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے اعجاز مسیح کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر تم سچے تھے تو