حیات طیبہ — Page 301
301 میں ان کو اولیاء اللہ میں سمجھ لوں گا مگر کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ اس میدان مقابلہ میں قدم رکھے۔الدار کی حفاظت کا وعدہ اسی زمانہ میں حضرت اقدس کو ایک الہام یہ بھی ہوا تھا کہ إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ إِلَّا الَّذِينَ عَلَوْا مِنْ اِسْتِكْبَارٍ وَ أَحَافِظُكَ خَاصَّةً۔سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِيْمِ ط - یعنی میں ہر ایک ایسے انسان کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا۔جو تیرے گھر میں ہو گا مگر وہ لوگ جو تکبر سے اپنے تئیں اونچا کریں اور میں تجھے خصوصیت کے ساتھ بچاؤں گا۔خدائے رحیم کی طرف سے تجھے سلام۔‘1 اس الہام سے چونکہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت اقدس کا گھر بہر حال طاعون سے کلیۂ محفوظ رہے گا۔اس لئے حضرت اقدس نے اپنے بہت سے احباب کو اپنے گھر میں رہنے کی دعوت دے دی۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب تو معہ اہلیہ صاحبہ پہلے ہی حضور کے گھر رہتے تھے۔حضرت حافظ حکیم مولوی نورالدین صاحب۔حضرت مولوی محمد احسن صاحب امروہی اور مولوی محمد علی صاحب کو بھی حضور نے اپنے گھر میں جگہ دے دی۔ان کے علاوہ بعض اور خاندان بھی حضرت اقدس کے گھر میں رہنے لگے، مگر باوجود اس قدر اثر دھام کے کسی شخص نے ذرا بھی تکلیف محسوس نہیں کی اور خدا تعالیٰ نے ایسی اعلیٰ حفاظت فرمائی کہ انسان تو کیا ایک چوہا تک بھی حضرت اقدس کے گھر میں کبھی نہیں مرا۔مولوی محمد علی صاحب کا واقعہ حضرت اقدس فرماتے ہیں: ”ایک دفعہ طاعون کے زور کے دنوں میں جب قادیان میں بھی طاعون تھی۔مولوی محمد علی صاحب ایم اے کو سخت بخار ہو گیا اور ان کو ظن غالب ہو گیا کہ یہ طاعون ہے اور انہوں نے مرنے والوں کی طرح وصیت کر دی اور مفتی محمد صادق صاحب کو سب کچھ سمجھا دیا اور وہ میرے گھر کے ایک حصہ میں رہتے تھے۔جس گھر کی نسبت خدا تعالیٰ کا یہ الہام ہے۔اِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدار۔تب میں اُن کی عیادت کے لئے گیا اور اُن کو پریشان اور گھبراہٹ میں پا کر میں نے ان کو کہا۔کہ اگر آپ کو طاعون ہوگئی تو پھر میں جھوٹا ہوں اور میرا دعویٰ الہام غلط ہے۔یہ کہ کر میں نے ان کی نبض پر ہاتھ لگایا یہ عجیب نمونہ قدرت الہی دیکھا کہ ہاتھ لگانے کے ساتھ ہی ایسا بدن سرد پایا کہ تپ کا نام ونشان نہ تھا۔له نزول مسیح صفحه ۲۳ ۲۲ حقیقت الوحی صفحه ۲۵۳ نیز دیکھوالبدر جلد ۳نمبر ۱۸ مورخه ۱۶/۸ مئی ۱۹۰۳ء