حیات طیبہ

by Other Authors

Page 300 of 492

حیات طیبہ — Page 300

300 صلی اللہ علیہ وسلم۔اور شفیع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہے بلکہ اس کی شفاعت در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شفاعت ہے۔1 ایسا ہی حضور نے تمام مخالفین و مکڈ مین کو چیلنج کرتے ہوئے لکھا کہ: ئیں۔خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نبیوں نے وعدہ دیا ہے اور میری نسبت اور میرے زمانہ کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے کہ اس وقت آسمان پر خسوف کسوف ہوگا اور زمین پر سخت طاعون پڑے گی اور میرا یہی نشان ہے کہ ہر ایک مخالف خواہ وہ امروہ میں رہتا ہے اور خواہ امرتسر میں اور خواہ دہلی میں اور خواہ کلکتہ میں اور خواہ لاہور میں اور خواہ گولڑہ میں اور خواہ بٹالہ میں۔اگر وہ قسم کھا کر کہے گا کہ اس کا فلاں مقام طاعون سے پاک رہے گا۔تو ضرور وہ مقام طاعون میں گرفتار ہو جائے گا۔کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے مقابل پر گستاخی کی۔اور یہ امر کچھ مولوی احمد حسن سے صاحب تک محدود نہیں بلکہ اب تو آسمان سے عام مقابلہ کا وقت آگیا اور جس قدر لوگ مجھے جھوٹا سمجھتے ہیں جیسے شیخ محمد حسین بٹالوی جو مولوی کر کے مشہور ہیں۔اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی جس نے بہتوں کو خدا کی راہ سے روکا ہوا ہے اور عبدالمجید اور عبد الحق اور عبدالواحد غزنوی جو مولوی عبداللہ صاحب کی جماعت میں سے ملہم کہلاتے ہیں اور منشی الہی بخش صاحب اکو نٹنٹ جنہوں نے میرے مخالف الہام کا دعویٰ کر کے مولوی عبد اللہ صاحب کو سید بنا دیا ہے اور اس قدر صریح جھوٹ سے نفرت نہیں کی اور ایسا ہی نذیر حسین دہلوی جو ظالم طبع اور تکفیر کا بانی ہے۔ان سب کو چاہئے کہ ایسے موقعہ پر اپنے الہاموں اور اپنے ایمان کی عزت رکھ لیں اور اپنے اپنے مقام کی نسبت اشتہار دے دیں کہ وہ طاعون سے بچایا جائے گا۔اس میں مخلوق کی سراسر بھلائی اور گورنمنٹ کی خیر خواہی ہے اور ان لوگوں کی عظمت ثابت ہوگی اور ولی سمجھے جائیں گے۔ورنہ وہ اپنے کا ذب اور مفتری ہونے پر مہر لگا دیں گے۔‘سے غور فرمائیے کہ ایک شخص جسے لوگ ( نعوذ باللہ من ذلک ) کذاب اور دجال کہتے تھے۔اوّل تو وہ طاعون کی آمد سے چار سال قبل جبکہ اس موذی مرض کا نام ونشان بھی اس ملک میں موجود نہ تھا۔طاعون کی خبر دیتا ہے۔پھر ایسے وقت میں جبکہ یہ مرض پوری شدت کے ساتھ ملک میں پھیل گئی۔اور لوگ کتوں کی طرح مرنے لگے۔اپنی اور پنے مسکن کی عصمت اور حفاظت کی خبر دیتا ہے اور اپنے مخالفین اور مکذبین کو چیلنج کرتا ہے کہ اگر ان کا بھی خدا تعالیٰ کے ساتھ کچھ تعلق ہے تو وہ بھی اسی قسم کا دعویٰ شائع کر کے دیکھ لیں۔اگر ان کے مساکن بھی طاعون سے محفوظ رہے تو اپنے ه دافع البلاء صفحہ ۲۵ ۳؎ یہ مولوی صاحب امروہہ کے باشندہ تھے اور تکذیب میں پیش پیش تھے سے دافع البلا صفحہ ۳۵،۳۴