حیات طیبہ — Page 302
302 گو یا حضور کو اپنی وحی پر اس قدر یقین تھا کہ آپ اس امر کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ آپ کے گھر میں بھی کوئی طاعون کا کیس ہوسکتا ہے۔کشتی نوح - ۷۵ اکتوبر ۱۹۰۲ء پھر اس زمانہ میں آپ نے ایک کتاب ”کشتی نوح لکھی۔جس میں آپ نے گورنمنٹ کا اس امر پر شکریہ ادا کیا۔کہ اس نے رعایا کی جانوں کی حفاظت کے لئے طاعون کا ٹیکہ لگوانے کا انتظام کیا ہے لیکن اپنے متعلق لکھا کہ ہمارے لئے ایک آسمانی روک ہے۔اگر وہ نہ ہوتی تو سب سے پہلے ہم ٹیکہ لگواتے اور وہ روک یہ ہے کہ کامل پیرو کے لئے لیکہ کی ضرورت نہیں : ”خدا نے چاہا ہے کہ اس زمانہ میں انسانوں کے لئے ایک آسمانی رحمت کا نشان دکھاوے۔سو اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو اور جو شخص تیرے گھر کی چاردیواری کے اندر ہوگا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا۔وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے۔اور ان آخری دنوں میں خدا کا یہ نشان ہوگا۔تا وہ قوموں میں فرق کر کے دکھلاوے، لیکن وہ جو کامل طور پر پیروی نہیں کرتا وہ تجھ میں سے نہیں ہے اس کیلئے مت دلگیر ہو۔یہ حکم الہی ہے۔جس کی وجہ سے ہمیں اپنے نفس کے لئے اور ان سب کے لئے جو ہمارے گھر کی چار دیواری میں رہتے ہیں۔ٹیکا کی کچھ ضرورت نہیں بشرطیکہ وہ اپنے تمام مخالفانہ ارادوں سے دستکش ہو کر پورے اخلاص اور اطاعت اور انکسار سے سلسلہ بیعت میں داخل ہوا اور خدا کے احکام اور اس کے مامور کے سامنے کسی طور سے متکبر اور سرکش اور مغرور اور غافل اور خودسر اور خود پسند نہ ہو۔اور عملی حالت موافق تعلیم رکھتا ہو اور اس نے مجھے مخاطب کر کے یہ بھی فرما دیا کہ عموما قادیان میں سخت بر بادی افگن طاعون نہیں آئے گی۔جس سے لوگ کتوں کی طرح مریں اور مارے غم اور سرگردانی کے دیوانہ ہو جائیں۔اے آگے چل کر حضور فرماتے ہیں: میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اس پیشگوئی کے مطابق کہ دراصل برابر بیس بائیس برس سے شہرت پارہی ہے ظہور میں نہ آیا۔تو میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔میرے منجاب اللہ ہونے کا یہ نشان له کشتی نوح صفحه ۲،۱