حیات طیبہ

by Other Authors

Page 295 of 492

حیات طیبہ — Page 295

295 خبر مجھ کو یہ تونے بارہا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي اگر چہ حضرت اقدس نے اپنے فرزندار جمند صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے قرآن شریف ختم کرنے کی خوشی میں بھی ایک تقریب منعقد کی اور مقامی و بیرونی خدام کو دعوت شرکت دی تھی اور محمود کی آمین کے نام سے ایک نظم بھی لکھی تھی۔جس کا ذکر ۱۸۹۷ء کے ذیل میں آچکا ہے لیکن یہ عجیب لذت بخشنے والی بات ہے کہ جب اور فرزندان جگر بند و دختر نیک اختر کے ختم قرآن شریف پر آمین کہی تو اس میں بھی اپنے فرزند گرامی ارجمند صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا ذکر ضروری خیال فرمایا۔اس میں سوچنے والوں کے لئے فرحت و انبساط اور از دیا دایمان کا بڑا سامان ہے۔چنانچہ حضرت اقدس اسی زیر نظر آمین میں فرماتے ہیں : بشارت دی کہ ایک بیٹا ہے تیرا جو ہوگا ایک دن محبوب میرا کروں گا دور اس مہ سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا بشارت کیا اک دل کی غذا دی ہے فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي اس جگہ اس امر کا ذکر کرنا بھی بے محل نہ ہوگا کہ ایک مرتبہ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ نے ان صاحبزادگان کی آمین سے متعلق حضور کی خدمت میں عرض کی کہ حضور یہ آمین جو ہوئی ہے یہ کوئی رسم ہے یا کیا ہے؟ حضرت اقدس نے اس کا مفصل جواب دیا۔جس کا خلاصہ حضور ہی کے الفاظ میں یہ ہے کہ میں جب کوئی کام کرتا ہوں تو میری غرض اور نیت اللہ تعالیٰ کے جلال کا اظہار ہوتی ہے ایسا ہی اس آمین کی تقریب پر بھی ہوا ہے۔یہ لڑ کے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ایک نشان ہیں اور ہر ایک ان میں سے خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں کا زندہ نمونہ ہے۔اس لئے میں خدا تعالیٰ کے ان نشانوں کی قدر کرنی فرض سمجھتا ہوں۔کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن کریم کی حقانیت اور خود خدا تعالی کی ہستی کے ثبوت ہیں۔اس وقت جب انہوں نے خدا کے کلام کو پڑھ لیا تو مجھے کہا گیا کہ اس تقریب پر چند دعائیہ شعر جن میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا شکریہ بھی ہو۔لکھ دوں۔میں جیسا کہ ابھی کہا ہے۔اصلاح کی فکر میں رہتا ہوں۔میں نے اس تقریب کو بہت ہی مبارک سمجھا۔1 ه الحکم ۱/۱۰ پریل ۱۹۰۳ء