حیات طیبہ — Page 296
"المنار" 296 جن ایام کے حالات ہم لکھ رہے ہیں اس زمانہ میں قاہرہ سے ایک اخبار المنار‘ نام نکلا کرتا تھا۔حضرت اقدس نے جب پیر گولڑوی اور دوسرے علماء کو عاجز کرنے کے لئے رسالہ اعجاز اسی “ لکھا تو اس کی چند کا پیاں عرب ممالک میں بھی بھیج دیں۔اس رسالہ میں چونکہ آپ نے مسئلہ جہاد کے متعلق بھی مسلمانوں کے غلط خیالات کی اصلاح فرمائی تھی۔اس لئے رسالہ "المنار" کے ایڈیٹر نے تعصب سے کام لے کر اس مضمون کا رڈ اپنے پرچہ میں شائع کر دیا۔اس کا وہ پرچہ کسی طریق سے پنجاب میں پہنچ گیا۔جسے کسی شخص نے نمک مرچ لگا کر اخبار ” چودھویں صدی میں شائع کر دیا اس پر چہ کا نکلنا تھا کہ جاہل لوگوں کو بغلیں بجانے کا موقع مل گیا اور وہ لگے شور مچانے کہ دیکھو ایک اہلِ زبان نے مرزا صاحب کی عربی کی کیسی خبر لی۔حالانکہ اس کے مضمون کا عربی سے تو کوئی تعلق ہی نہ تھا۔اس نے تو نفس مضمون ”جہاد“ کی مخالفت کی تھی ، ہاں یہ ضرور کہا تھا کہ اگر ہم چاہیں تو اس کی مثل لکھ دیں۔گویا اس طرح قرآن مجید میں درج شدہ ایک قول لَوْ نَشَاء لَقُلْنَا مِثل هذا کو دہرا دیا تھا۔مگر مثل لکھنے پر وہ بھی قادر نہ ہوا اور نہ ہو سکتا تھا۔لے حضرت اقدس کو جب اس پرچہ کے مضمون کا علم ہوا تو آپ نے المنار“ کے عنوان سے ایک اشتہار شائع وو فرمایا جس میں لکھا کہ ان بیوقوفوں کو معلوم نہ ہوا کہ یہ تو سارا جہاد کی مخالفت کا مضمون پڑھ کر جوش نکالا گیا ہے۔ورنہ اسی قاہرہ میں پرچہ مناظر کے ایڈیٹر نے جو ایک نامی ایڈیٹر ہے جس کی تعریف منار“ بھی کرتا ہے اپنے جریدہ میں صاف طور پر اقرار کر دیا ہے کہ کتاب اعجاز اسیح در حقیقت فصاحت و بلاغت میں بے مثل کتاب ہے اور صاف گواہی دے دی ہے کہ اس کے بنانے پر دوسرے مولوی ہرگز قادر نہیں ہوں گے۔ان مخالفوں کو چاہئے کہ جریدہ ” مناظر“ کو طلب کر کے ذرہ آنکھیں کھول کر پڑھیں اور ہمیں بتائیں کہ اگر ایڈیٹر ”منار اہلِ زبان ہے تو کیا ایڈیٹر ” مناظر اہلِ زبان نہیں ہے؟ بلکہ ” مناظر“ نے صاف طور پر بیان کر دیا ہے کہ اعجاز اسیح کی فصاحت بلاغت در حقیقت معجزہ کی حد تک پہنچ گئی ہے۔اور پھر ایڈیٹر ”ہلال“ نے بھی جو عیسائی پر چہ ہے۔اعجاز امسیح کی فصاحت و بلاغت کی تعریف کی۔اور وہ پرچہ بھی قاہرہ سے نکلتا ہے۔اب ایک طرف تو دو گواہ دو ہیں اور ایک طرف بیچارہ ” منار اکیلا۔“ لے اس سال خطبہ کے ساتھ بقیہ مضمون کو ملا کر اس کتاب کی تصنیف کو مکمل کیا گیا