حیات طیبہ

by Other Authors

Page 293 of 492

حیات طیبہ — Page 293

293 صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور صاحبزادی نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے قرآن شریف ختم کیا تو آپ نے اس خوشی میں بھی مورخہ ۱۳۰ نومبر ۱۹۰۱ء کو ایک جلسہ کیا۔جس میں بیرونجات سے بھی احباب کثرت کے ساتھ تشریف لائے۔اس روز غرباء ومساکین کو کھانا بھی کھلایا گیا۔اور حضور نے ایک نظم بھی تیار فرمائی۔چونکہ وہ نظم ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے اس لئے اس کے چند اشعار کا اس مقام پر درج کرنا احباب کے ازدیاد ایمان کے لئے یقیناً مفید ہوگا۔حضور فرماتے ہیں: خدایا اے میرے پیارے خدایا یہ کیسے ہیں ترے مجھ پر عطایا کہ تونے پھر مجھے یہ دن دکھایا کہ بیٹا دوسرا بھی پڑھ کے آیا بشیر احمد جسے تو نے پڑھایا شفا دی آنکھ کو بیناک بنایا شریف احمد کو بھی یہ پھل کھلایا کہ اس کو تو نے خود فرقاں سکھایا تیرے احساں ہیں اے رب البرایا مبارک کو بھی تو نے پھر چلایات جب اپنے پاس اک لڑکا بُلایا۔تو کر چار جلدی سے ہنسایا غموں کا ایک دن اور چار شادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي اور ان کیساتھ کی ہے ایک دختر کے ہے کچھ کم پانچ کی وہ نیک اختر کلام اللہ کو پڑھتی ہے فرفر خدا کا فضل اور رحمت سراسر لے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ الرحمن کی آنکھیں دُکھتی رہتی تھیں۔کافی علاج کیا گیا مگر آرام نہیں آتا تھا اس پر حضور نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی جو قبول ہوئی اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی آنکھیں بالکل تندرست ہو گئیں۔فالحمد للہ علی ذالک۔کہ حضرت صاحبزادہ مبارک احمد صاحب بھی ایک مرتبہ شدید بیمار ہو گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت اقدس کی دُعا سے شفا بخشی تھی تفصیل کے لئے دیکھیں حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۵۳ ے بشیر اول کے صاحبزادی مبارکه بیگم صاحبه