حیات طیبہ

by Other Authors

Page 236 of 492

حیات طیبہ — Page 236

236 اراضی که بطور انعام دی اور حضرت اقدس کے بارہ میں تحقیقات کے لئے خفیہ ہدایات جاری کر دیں۔پولیس کا چھاپا اکتوبر ۱۸۹۸ء کا آخر تھا۔حضرت اقدس کے خدام نماز مغرب کی ادائیگی کے لئے مسجد مبارک کی چھت پر جمع ہورہے تھے کہ ایک دن شام کو سپر نٹنڈنٹ پولیس، رانا جلال الدین خان انسپکٹر پولیس کی معیت میں پولیس کا ایک دستہ لیکر مسجد مبارک کی چھت پر پہنچ گئے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی مسجد میں موجود ہے۔وہ یہ نظارہ دیکھ کر گھبرا گئے۔حضرت اقدس کی خدمت میں اطلاع بھجوائی آپ اطمینان کے ساتھ باہر تشریف لائے۔سپر نٹنڈنٹ نے کہا کہ ہم آپ کی خانہ تلاشی کے لئے آئے ہیں۔کیونکہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ آپ کے امیر کابل کے ساتھ تعلقات ہیں۔اور آپ طاقت پکڑ کر گورنمنٹ انگریزی کے ساتھ نبرد آزما ہونا چاہتے ہے۔حضور نے فرمایا۔یہ بات بالکل غلط ہے۔ہم تو گورنمنٹ انگریزی کو نہایت ہی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔جو مذہبی آزادی اور عدل وانصاف اس حکومت میں ہے اور کہیں بھی نظر نہیں آتا اور ہم بذریعہ تلوار اسلام کی اشاعت تعلیم اسلام کی رُو سے نا جائز سمجھتے ہیں۔ہمارے نزدیک اسلام اپنی خوبیوں کی وجہ سے اپنی اشاعت کے لئے تلوار کا محتاج نہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں تلاشی دینے میں کوئی عذر ہے۔البتہ ہماری نماز کا وقت ہو گیا ہے۔اگر مہر بانی کر کے آپ ذرا ٹھہر جائیں تو ہم نماز سے فارغ ہو جائیں۔سپر نٹنڈنٹ صاحب پولیس ایک شریف انسان تھے۔مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گئے اور نماز کا نظارہ دیکھنے لگے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے امامت کرائی ایک تو وہ خوش الحان تھے ہی۔دوسرے پولیس کی آمد کا بھی ان پر اثر تھا۔انہوں نے اس خوش الحانی اور سوز وگداز سے قرآن کریم پڑھا کہ نمازیوں کی چھینیں نکل گئیں۔سپرنٹنڈنٹ پولیس پر اس نماز کا ایسا اثر ہوا کہ جب حضرت مولوی صاحب نے سلام پھیرا۔تو وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور حضرت اقدس سے کہنے لگا کہ مرزا صاحب! مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ ایک راستباز اور خدا پرست انسان ہیں اور آپ نے جو کچھ فرمایا ہے سب سچ ہے۔یہ دشمنوں کا آپ کے خلاف غلط پراپیگینڈا تھا۔لہذا میں آپ کی خانہ تلاشی کی ضرورت نہیں سمجھتا اور یہ کہ کر کپتان صاحب تو پولیس کو لے کر چلے گئے۔لیکن حضرت اقدس حیران ہوئے کہ اس خانہ تلاشی کا باعث کونسا گروہ ہے؟ آخر دسمبر ۱۸۹۸ء میں کسی شخص کے ذریعہ آپ کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا وہ رسالہ ہاتھ لگ گیا۔جس کو پڑھوا کر سننے سے آپ پر ساری حقیقت منکشف ہوئی۔اس کے جواب میں لے یہ زمین جو غالباً چار مربع تھی اس سے نہ تو مولوی محمد حسین صاحب نے کچھ فائدہ اٹھایا اور نہ ہی ان کی اولا د کچھ فائدہ حاصل کر سکی بلکہ اکثر حصہ اس کا اونے پونے فروخت ہو گیا۔اب سنا ہے کہ تھوڑی سی باقی ہے جس کی مالک ان کی لڑکیاں ہیں مگر اس زمین کے بارہ میں بھی اکثر جھگڑا جاری رہتا ہے۔(مؤلف)۔