حیات طیبہ — Page 237
237 حضرت اقدس نے ۲۷ / دسمبر ۹۸ کو گورنمنٹ انگلشیہ کو مخاطب کر کے ایک رسالہ بنام ”کشف الغطا “ لکھا جس میں اپنے خاندانی حالات بیان کرنے کے بعد مولوی محمد حسین صاحب کی اس چالا کی کو طشت از بام کیا جو انہوں نے گورنمنٹ سے مربعے حاصل کرنے کے لئے کی تھی۔ایک استفتاء مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اس انگریزی رسالہ میں یہ کہہ کر کہ میں کسی مہدی کی آمد کا قائل نہیں ہوں اور ایسی احادیث کو جن میں امام مہدی کی آمد کا ذکر ہے مجروح سمجھتا ہوں مربعے حاصل کرنے کے لئے صریحا دروغ بے فروغ سے کام لیا تھا۔اس پر ان کے رسوا ہونے کا یہ قدرتی سامان پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کے ایک مخلص مرید ڈا کٹر محمد اسمعیل خاں صاحب گوڑیا نوی کے دل میں ڈالا کہ اس موقعہ پر کوئی دینی خدمت بجالانی چاہئے۔چنانچہ وہ کرسمس ۱۸۹۸ء کے ایام میں قادیان حاضر ہوئے۔جلسہ تو بعض اسباب کی بناء پر کرسمس کے ایام میں نہ ہوسکا۔البتہ انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا انگریزی رسالہ پڑھ کر حضرت اقدس کی خدمت میں درخواست کی کہ حضور مجھے ایک استفتاء لکھوا دیں میں علماء سے اس پر دستخط کروا کر لاؤں گا۔حضور نے جو استفتاء لکھوایا۔وہ درج ذیل ہے۔استفتاء کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین کہ ایک شخص مہدی موعود کے آنے سے جو آخری زمانہ میں آئے گا اور بطور ظاہر و باطن خلیفہ برحق ہو گا اور بنی فاطمہ میں سے ہوگا۔جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے۔قطعا انکار کرتا ہے اور اس جمہوری عقیدہ کو کہ جس پر تمام اہل سنت دلی یقین رکھتے ہیں۔سراسر لغو اور بیہودہ سمجھتا ہے اور ایسا عقیدہ رکھنا ایک قسم کی ضلالت اور الحاد خیال کرتا ہے کیا ہم اس کو اہلسنت میں سے اور راہ راست پر سمجھ سکتے ہیں یا وہ کذاب اور اجماع کا چھوڑنے والا اور ملحد اور دجال ہے۔بَيِّنُوا وَتُوجَرُوا۔اه تبلیغ رسالت جلد هشتم صفحه ۶ المرقومه ۲۹ دسمبر ۹۸ په مطابق ۱۵ر شعبان المبارک ۱۳۱۲ھ السائل اعصم باللہ الاحد مرزا غلام احمد عافاه الله واید لے