حیات طیبہ — Page 235
235 عاصم اسی اشتہار میں آگے چل کر حضور لکھتے ہیں: یہ دعا تھی جو میں نے کی۔اس کے جواب میں یہ الہام ہوا کہ میں ظالم کو ذلیل اور رسوا کروں گا اور وہ اپنے ہاتھ کاٹے گا۔اے 66 پھر آپ نے چند عربی کے الہامات بھی اس اشتہار میں درج فرمائے جن میں سے بعض الہام یہ تھے : ا تَعْجَبُ لأمْرِى جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ مَّالَهُمْ مِّنَ اللَّهِ مِنْ یعنی کیا تم میرے حکم پر تعجب کرتے ہو۔بدی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا اور ان لوگوں پر ذلت طاری ہوگی۔اللہ (کے عذاب) سے کوئی انہیں بچا نہیں سکے گا۔‘سے خدائی فیصلہ کا ظہور حضرت اقدس کی یہ دعا جناب الہی میں قبول ہو گئی اور اس نے مولوی محمد حسین صاحب کی ذلت کے یہ اسباب پیدا کئے۔مولوی محمد حسین صاحب نے حضرت اقدس کے اس اشتہار سے قبل ۱۴؍ اکتوبر ۱۸۹۸ء کوخفیہ طور پر اپنے رسالہ اشاعت السنہ کا ایک ایڈیشن انگریزی میں نکالا۔جس میں گورنمنٹ کو مخاطب کر کے حضرت اقدس کے بارہ میں یہ لکھا کہ یہ شخص جو مدعی مہدویت ہے یہ مہدی سوڈانی سے بھی زیادہ خطر ناک ہے اور ابھی جو یہ اظہار وفاداری کرتا ہے تو محض دفع الوقتی کے طور پر کرتا ہے۔جب یہ طاقت پکڑ جائے گا تو گورنمنٹ سے ایسی ٹکر لے گا۔کہ مہدی سوڈانی گورنمنٹ کو بھول جائے گا۔گورنمنٹ کو چاہئے کہ فوراً اس شخص کو گرفتار کر لے اور اپنی نسبت لکھا کہ میں چونکہ کسی ایسے مہدی کی آمد کا قائل نہیں ہوں اور ایسی تمام حدیثوں کو مجروح جانتا ہوں جن میں مہدی کی آمد کا ذکر ہے اس لئے میں اس کی مخالفت کرتا رہتا ہوں۔اس اشتہار میں اس نے حضرت اقدس کی نسبت یہ بھی لکھا کہ اس کے امیر عبدالرحمن خاں والی افغانستان کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ اپنے پٹھان مریدوں کے ذریعہ سے اس سے نامہ و پیام رکھتا ہے۔اس خفیہ اور جھوٹی مخبری پر گورنمنٹ نے اُسے چک ۲۳ ۲۳ تحصیل جڑانوالہ ضلع لائل پور میں چند مربعے لے ہاتھ کاٹنے سے یہ مراد ہے کہ جن ہاتھوں سے ظالم نے جو حق پر نہیں ہے ناجائز تحریر کا کام لیاوہ ہاتھ اس کی حسرت کا موجب ہونگے اور افسوس کرے گا کہ کیوں یہ ہاتھ ایسے کام پر چلے۔اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحه ۵۵