حیات طیبہ — Page 224
224 دیا۔اور خدا کی عجیب قدرت ہے کہ جیسا کہ وہ کہتے تھے۔اسی بیان پر وہ بری ہو گئے۔مولوی فضل الدین صاحب نے ان کی راستبازی اور راست گوئی کے لئے ہر قسم کی مصیبت کو قبول کر لینے کی جرأت اور بہادری کا ذکر کر کے حاضرین مجلس پر ایک کیف آور حالت پیدا کر دی۔اس پر بعض نے کہا کہ آپ پھر مرید کیوں نہیں ہو جاتے تو انہوں نے کہا کہ یہ میرا ذاتی فعل ہے اور تمہیں یہ حق نہیں کہ سوال کرو میں انہیں ایک کامل راستبازیقین کرتا ہوں اور میرے دل میں ان کی بہت ،، بڑی عظمت ہے۔" ناظرین! غور فرمائیے یہ وہ اعلیٰ نمونہ ہے جو اس زمانہ کے مامور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام نے اس زمانہ کے وکیلوں اور فریقین مقدمہ کے لئے پیش کیا ہے۔انگریز اور پھر پادری مستغیث ہے اور انگریز ہی مجسٹریٹ ہے اور سخت خطرہ سامنے مگر اس ہولناک حالت میں بھی راستی کے خلاف ایک لفظ بھی پسند کرنے کو آپ کی طبیعت تیار نہیں۔کپتان ڈگلس پر حضرت اقدس کی عظیم شخصیت کا اثر کپتان ڈگلس جو اپنی ملازمت سے ریٹائر ہو کر انگلستان چلے گئے تو ایک لمبے زمانہ تک زندہ رہے۔بیسیوں احمدیوں نے لنڈن میں اُن سے ملاقات کی اور اس مقدمہ کے حالات سنے وہ ہمیشہ ہی یہ بیان کیا کرتے تھے کہ ایک طرف ایک معزز پادری تھا۔دوسری طرف ( حضرت ) مرزا صاحب۔میرے لئے پادری صاحب کو جھٹلانا بھی مشکل تھا۔مگر ( حضرت ) مرزا صاحب کی عظیم شخصیت اور راست گوئی اور معصومانہ انداز کا مجھ پر اس قدر اثر تھا کہ میں یہ یقین ہی نہیں کر سکتا تھا کہ مرزا صاحب نے عبدالحمید کو پادری صاحب کے قتل کرنے کے لئے بھیجا ہوگا۔اس پر جب میں نے پولیس کی معرفت عبد الحمید کا بیان لیا تو وہ کپتان پولیس کے پاؤں میں گر گیا اور رو رو کر کہا کہ مجھے جھوٹ بولنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ورنہ حضرت مرزا صاحب بالکل بے گناہ ہیں۔کپتان صاحب یہ بھی بیان کرتے تھے کہ عام طور پر جو لوگ بیرونی ممالک میں سروس کر کے آتے ہیں یہاں کے لوگ ان سے خاص خاص واقعات سنتے ہیں۔مجھے جب بھی کسی نے کوئی واقعہ بیان کرنے کے لئے کہا ہے میں نے یہی واقعہ بیان کیا ہے۔کیپٹن صاحب کی وفات کو ابھی چند سال ہی گزرے ہیں کہ وہ ہمیشہ تعجب سے یہ کہا کرتے تھے کہ میں ( حضرت ) مرزا صاحب کی عظیم شخصیت کا تو قائل تھا لیکن مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ ایک دن مرز ا صاحب کو یہ عظمت له الحکم ۱۴ نومبر ۱۹۳۴ء سے کپتان ڈگلس (جو بعد میں کرنل ہوئے ) نے ۹۳ سال کی عمر پا کر ۲۵ فروری ۱۹۵۷ء کولندن میں وفات پائی۔