حیات طیبہ

by Other Authors

Page 225 of 492

حیات طیبہ — Page 225

225 حاصل ہو جائے گی کہ ان کے جماعت تمام دنیا میں پھیل جائے گی۔مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان کا اجراء قادیان میں جماعت کی تعداد دن بدن بڑھ رہی تھی مگر اپنی جماعت کے بچوں کے لئے کوئی سکول جاری نہیں تھا۔نتیجہ یہ تھا کے جماعت کے احباب کو مجبورا اپنے بچوں کو ایک مقامی آریہ سکول میں بھیجنا پڑتا تھا۔حضرت اقدس کو رپورٹ موصول ہوئی کہ آریہ سکول میں اسلام کے خلاف اعتراضات کئے جاتے ہیں اور اس طرح ہمارے بچوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔حضور کے حساس دل کو یہ سنکر سخت صدمہ پہنچا اور حضور نے فوراً ایک اپنا سکول جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا۔چنانچہ حضور نے ۱۵ ستمبر ۱۸۹۷ ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ احباب جماعت سے چندہ کی اپیل کی اور پھر جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء میں بھی احباب کو اس طرف متوجہ کیا۔جس کے نتیجہ میں ابتداء ۱۸۹۸ء میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مدرسہ تعلیم الاسلام جاری ہو گیا اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب اس کے پہلے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔سفر ملتان اوائل اکتوبر ۱۸۹۷ء اوائل اکتوبر ۱۸۹۷ء میں ایک شہادت کے سلسلہ میں حضرت اقدس کو ملتان جانا پڑا وہاں سے واپسی پر آپ نے شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی کے مکان پر لاہور میں بھی قیام فرمایا۔اس وقت شیخ صاحب کا مکان اپنی دکان بمبئی ہاؤس کے عقب میں تھا اور دکان انار کلی میں پنجاب ریجس بک سوسائٹی کے بالکل سامنے تھی۔اس مکان پر ہر مذہب وملت کے لوگ حضور سے سوالات کرنے اور مذہبی معلومات حاصل کرنے کے لئے آتے رہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کا بیان ہے کہ: یہاں ( یعنی لاہور میں ) جن جن گلیوں سے آپ گزرتے۔ان کے لوگ آپ کو گالیاں دیتے اور پکار پکار کر برے الفاظ آپ کی شان میں زبان سے نکالتے میری عمر اس وقت آٹھ سال کی تھی۔اور میں بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ تھا۔میں اس مخالفت کی جو لوگ آپ سے کرتے تھے وجہ تو نہیں سمجھ سکتا تھا اس لئے یہ دیکھ کر مجھے سخت تعجب آتا کہ جہاں سے آپ گزرتے ہیں۔لوگ۔آپ کے پیچھے کیوں تالیاں پیٹتے اور سیٹیاں بجاتے ہیں؟ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ایک ٹنڈ اشخص جس کا ایک پونچا کٹا ہوا تھا اور بقیہ ہاتھ پر کپڑا بندھا ہوا تھا نہیں معلوم کہ ہاتھ کے کٹنے کا ہی زخم تھا یا کوئی نیاز خم تھا۔وہ بھی لوگوں میں شامل ہو کر غالبا مسجد وزیر خاں کی سیڑھیوں پر کھڑا تالیاں پیٹتا