حیات طیبہ

by Other Authors

Page 223 of 492

حیات طیبہ — Page 223

223 دیا، لیکن میں نے اپنی عمر میں مرزا صاحب ہی کو دیکھا ہے جنہوں نے سچ کے مقام سے قدم نہیں ہٹایا۔میں اُن کے ایک مقدمہ میں وکیل تھا۔اس مقدمہ میں میں نے ان کے لئے ایک قانونی بیان تجویز کیا اور ان کی خدمت میں پیش کیا۔انہوں نے اسے پڑھ کر کہا کہ اس میں تو جھوٹ ہے میں نے کہا کہ ملزم کا بیان حلفی نہیں ہوتا اور قانونا اسے اجازت ہے کہ جو چاہے بیان کرے۔“ اس پر آپ نے فرمایا ” قانون نے تو اسے یہ اجازت دیدی ہے کہ جو چاہے بیان کرے۔مگر خدا تعالیٰ نے تو اجازت نہیں دی کہ وہ جھوٹ بھی بولے اور نہ قانون ہی کا یہ منشاء ہے۔پس میں کبھی ایسے بیان کے لئے آمادہ نہیں ہوں جس میں واقعات کا خلاف ہو۔میں صحیح صحیح امر پیش کروں گا۔مولوی صاحب کہتے تھے کہ میں نے کہا کہ آپ جان بوجھ کر اپنے آپ کو بلا میں ڈالتے ہیں انہوں نے فرمایا ” جان بوجھ کر بلا میں ڈالنا یہ ہے کہ میں قانونی بیان دے کرنا جائز فائدہ اُٹھانے کے لئے اپنے خدا کو ناراض کرلوں۔یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔خواہ کچھ بھی ہو۔“ مولوی فضل الدین صاحب کہتے تھے کہ یہ باتیں مرزا صاحب نے ایسے جوش سے بیان کیں کہ ان کے چہرہ پر ایک خاص قسم کا جلال اور جوش تھا۔میں نے سیشن کر کہا کہ پھر آپ کو میری وکالت سے کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا۔اس پر انہوں نے فرمایا کہ میں نے کبھی وہم بھی نہیں کیا کہ آپ کی وکالت سے فائدہ ہوگا۔یا کسی اور شخص کی کوشش سے فائدہ ہوگا اور نہ میں سمجھتا ہوں کہ کسی کی مخالفت مجھے تباہ کر سکتی ہے۔میرا بھروسہ تو خدا پر ہے جو میرے دل کو دیکھتا ہے۔آپ کو وکیل اس لئے کیا ہے کہ رعایت اسباب ادب کا طریق ہے اور میں چونکہ جانتا ہوں کہ آپ اپنے کام میں دیانتدار ہیں اس لئے آپ کو مقرر کیا ہے۔“ مولوی فضل الدین صاحب کہتے تھے میں نے پھر کہا کہ میں تو یہی بیان تجویز کرتا ہوں۔مرزا صاحب نے کہا کہ نہیں۔جو بیان میں خود لکھتا ہوں۔نتیجہ اور انجام سے بے پروا ہو کر وہی داخل کرو۔اس میں ایک لفظ بھی تبدیل نہ کیا جاوے اور میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ آپ کے قانونی بیان سے وہ زیادہ موثر ہوگا اور جس نتیجہ کا آپ کو خوف ہے وہ ظاہر نہیں ہوگا بلکہ انجام انشاء اللہ بخیر ہوگا اور اگر فرض کر لیا جاوے کہ دنیا کی نظر میں انجام اچھا نہ ہو۔یعنی مجھے سزا ہو جاوے تو مجھے اس کی پرواہ نہیں کیونکہ میں اس وقت اس لئے خوش ہوں گا کہ میں نے اپنے ربّ کی نافرمانی نہیں کی۔غرضیکہ مولوی فضل الدین صاحب نے بڑے جوش اور اخلاص سے اس طرح مرزا صاحب کا ڈیفنس پیش کیا اور کہا کہ مرزا صاحب نے پھر قلم برداشتہ اپنا بیان لکھ 66