حیات طیبہ — Page 206
206 گنگا بشن کی جسارت حضرت اقدس کی اس دعوت قسم کے مقابلہ میں اور تو کسی کو جرات نہ ہوئی کہ ایسی قسم کھاوے البتہ آریہ قوم میں سے ایک شخص گنگا بشن نے آپ کی خدمت میں لکھا کہ میں قسم کھانے کو تیار ہوں مگر اس کے لئے انہوں نے تین شرطیں لگا دیں۔اول یہ کہ اگر پیشگوئی پوری نہ ہو تو ( نعوذ باللہ من ذلک) حضرت اقدس کو پھانسی کی سزا دی جائے۔دوم یہ کہ ان کے لئے (یعنی لالہ گنگا بشن کے لئے ) دس ہزار روپیہ گورنمنٹ میں جمع کرایا جائے۔یا ایسے بنک میں جس میں ان کی تسلی ہو سکے اور وہ بد دعا سے نہ مریں تو اُن کو وہ رو پیدل جائے۔سوم یہ کہ جب وہ قادیان میں قسم کھانے کے لئے آویں تو اس بات کا ذمہ لیا جائے کہ وہ لیکھرام کی طرح قتل نہ کئے جائیں۔لالہ گنگا بشن صاحب کی ان شرطوں کو حضرت اقدس نے منظور فرماتے ہوئے لکھا کہ لالہ گنگا بشن کو چاہئے کہ وہ ان الفاظ میں قسم کھاویں کہ میں فلاں بن فلاں قوم فلاں ساکن قصبہ فلاں ضلع فلاں اللہ جل شانہ کی یا پر میشر کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرزا غلام احمد قادیانی در حقیقت پنڈت لیکھرام کا قاتل ہے اور میں اپنے پورے یقین سے جانتا ہوں کہ بالضرور لیکھرام غلام احمد کی سازش اور شراکت سے قتل کیا گیا ہے اور ایسا ہی پورے یقین سے جانتا ہوں کہ یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھی بلکہ ایک انسانی منصوبہ تھا جو پیشگوئی کہ بہانہ سے عمل میں آیا۔اگر میرا یہ بیان صحیح نہیں ہے تو اے خدائے قادر مطلق ! اس شخص کا سچ ظاہر کرنے کے لئے اپنا یہ نشان دکھلا کہ ایک سال کے اندر مجھے ایسی موت دے کہ جو انسان کے منصوبہ سے نہ ہو اور اگر میں ایک سال کے اندر مر گیا تو تمام دنیا یا درکھے کہ میرا مرنا اس بات پر گواہی ہوگی کہ واقعی طور پر یہ خدا کا الہام تھا۔انسانی سازش نہیں تھی اور نیز یہ کہ واقعی طور پر سچا دین صرف اسلام ہے اور دوسرے تمام مذہب جیسے کہ آریہ مذہب اور سناتن دھرم ، عیسائی وغیرہ تمام بگڑے ہوئے عقیدے ہیں۔“ غرض اس مضمون کی قسم کسی معتبر اور مشہور اخبار میں چھپوانی ہوگی اور یہی قسم قادیان میں آکر جلسہ عام میں کھانی ہوگی۔اب اگر میں اس وعدہ سے پھر جاؤں تو میرے پر خدا کی لعنت ورنہ تمہارے پر۔آپ کی درخواست کے موافق مجھ پر واجب ہوگا کہ میں دس ہزار روپیہ آپ کے لئے جمع کرا دوں اور میری درخواست کے موافق آپ پر واجب ہوگا کہ آپ بلا کم و بیش اسی قسم کا اقرار