حیات طیبہ

by Other Authors

Page 207 of 492

حیات طیبہ — Page 207

207 موکد بقسم کسی معتبر اور مشہور اخبار میں جیسا کہ اخبار عام۔شائع کر دیں اور جیسا کہ میں تسلیم کر چکا ہوں۔آپ کے اس چھپے ہوئے اقرار کے پہنچنے کے بعد دو مہینے تک دس ہزار روپیہ جمع کرا دوں گا۔اگر نہ کراؤں تب بھی کا ذب شمار کیا جاؤں گا۔اے حضرت اقدس نے جب لالہ گنگا بشن صاحب کی تینوں شرطوں کو منظور فرمالیا اور قسم کے الفاظ بھی تحریر کر دیئے تو لالہ گنگا بشن صاحب نے ہمدرد ہند لاہور ۱۲ را پریل میں ایک اور شرط زائد کر دی اور وہ یہ کہ جب (حضرت اقدس ) مرزا صاحب (نعوذ باللہ من ذالک) جھوٹا ہونے کی صورت میں پھانسی کی سزا سے مارے جائیں تو ان کی لاش مجھے ( یعنی لالہ گنگا بشن کو ) مل جائے اور پھر وہ اس لاش سے جو چاہیں کریں۔جلا دیں۔دریا بر دکریں یا اور کارروائی کریں۔اس شرط کے جواب میں حضرت اقدس نے فرمایا: یہ شرط بھی مجھے منظور ہے اور میرے نزدیک بھی جھوٹے کی لاش ہر ایک ذلّت کے لائق ہے اور یہ شرط در حقیقت نہایت ضروری تھی جو لالہ گنگا بشن صاحب کو عین موقعہ پر یاد آ گئی لیکن ہمارا بھی حق ہے کہ یہی شرط بالمقابل اپنے لئے بھی قائم کریں اور وہ یہ ہے جب گنگا بشن صاحب حسب منشاء پیشگوئی مر جائیں تو ان کی لاش بھی ہمیں مل جائے تا بطور نشان فتح وہ لاش ہمارے قبضہ میں رہے اور ہم اس لاش کو ضائع نہیں کریں گے بلکہ بطور نشانِ فتح مناسب مصالحوں کے ساتھ محفوظ رکھ کر عام منظر میں یا لاہور کے عجائب گھر میں رکھا دیں گے لیکن چونکہ لاش کے وصول پانے کے لئے ابھی سے کوئی احسن انتظام چاہئے۔لہذا اس سے زیادہ کوئی انتظام احسن معلوم نہیں ہوتا کہ پنڈت لیکھرام کی یادگار کے لئے جو پچاس ہزار یا ساٹھ ہزار روپیہ جمع ہوا ہے اس میں سے دس ہزار روپیہ بطور ضمانت لاش ضبط ہو کر سرکاری بنک میں جمع رہے اور کاغذات خزانہ میں یہ لکھوا دیا جائے کہ اگر ایک سال کے اندر گنگا بشن فوت ہو گیا اور اس کی لاش ہمارے حوالہ نہ کی گئی تو بعوض اس کے بطور قیمت لاش یا تاوان عدم حوالگی لاش دس ہزار روپیہ ہمارے حوالہ کر دیا جائے گا اور ایسے اقرار کی ایک نقل معہ دستخط عہدہ دار افسر خزانہ کے مجھے بھی ملنی چاہئے۔‘ سے حضرت اقدس کی اس شرط کے جواب میں لالہ گنگا بشن صاحب نے لکھا کہ میں آریہ سماج کا ممبر نہیں تا وہ اس قدر میرے لئے ہمدردی کر سکیں کہ دس ہزار روپیہ جمع له از اشتہار ۱۶ اپریل ۱۸۹۷ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه ۸۸٬۸۷ که از اشتہار ۱۶ را پریل ۱۸۹۷ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه ۹۱ - ۹۲