حیات طیبہ — Page 205
205 سراغ نہ ملنا تھا نہ ملا اور حضرت اقدس کی حفاظت کا تو اللہ تعالیٰ خود ذمہ لے چکا تھا جیسا کہ آپ کے الہام والله يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس سے ظاہر ہے یعنی اللہ تجھے لوگوں کے حملوں سے بچائے گا۔حضرت اقدس کے گھر کی تلاشی جب ہندوؤں کی کوئی تدبیر بھی کارگر ثابت نہ ہوئی تو انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ آپ کے خلاف اقدامِ قتل کا مقدمہ چلایا جاوے چنانچہ گورنمنٹ کے مشہور اور ماہر سراغرساں اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے مقرر ہوئے۔لاہور اور امرتسر کے معزز مسلمانوں کی تلاشیاں لی گئیں۔۱۸ اپریل ۹۷ء کو مسٹر لیمار چنڈ ایس، پی گورداسپور اور میاں محمد بخش صاحب ڈپٹی انسپکٹر متعینہ بٹالہ نے پولیس کی ایک مختصری جمعیت کے ساتھ آپ کے گھر کی بھی تلاشی لی۔مگر نتیجہ یہی نکلا کہ آپ یا آپ کی جماعت کو اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔آپ کو سازش قتل میں شریک سمجھنے والے کو ایک نیک صلاح آریہ پریس اور آریہ لیڈر چونکہ آپ ہی کو اس قتل کا ذمہ دار سمجھتے تھے اس لئے آپ نے لیکھر ام کی موت کے متعلق آریوں کے خیالات کے عنوان سے ایک اشتہار شائع فرمایا۔جس میں لکھا کہ: اگر اب بھی کسی شک کرنے والے کا شک دُور نہیں ہو سکتا اور وہ مجھے اس قتل کی سازش میں شریک سمجھتا ہے جیسا کہ ہندو اخباروں نے ظاہر کیا ہے تو میں ایک نیک صلاح دیتا ہوں کہ جس سے یہ سارا قصہ فیصلہ ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ ایسا شخص میرے سامنے قسم کھاوے۔جس کے الفاظ یہ ہوں کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شخص ( یعنی حضرت اقدس۔ناقل ) سازش قتل میں شریک ہے یا اس کے حکم سے واقعہ قتل ہوا ہے۔پس اگر یہ میچ نہیں ہے تو اے قادر خدا! ایک برس کے اندر مجھ پر وہ عذاب نازل کر جو ہیبت ناک ہو۔مگر کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو اور نہ انسان کے منصوبوں کا اس میں کچھ دخل متصور ہو سکے۔پس اگر یہ شخص (یعنی قسم کھانے والا ) ایک برس تک میری بددعا سے بچ گیا تو میں مجرم ہوں اور اسی سزا کے لائق کہ ایک قاتل کے لئے ہونی چاہئے۔اب اگر کوئی بہادر کلیجہ والا آریہ ہے جو اس طور سے تمام دنیا کو شبہات سے چھڑا دے تو اس طریق کو اختیار کرے۔لے اشتہار مورخه ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء