حیات طیبہ

by Other Authors

Page 184 of 492

حیات طیبہ — Page 184

184 حضرت خلیفہ امسیح الاول" کے عہد میں یہ تحریک پھر زندہ ہوئی، مگر اب کی دفعہ چونکہ مسلمانوں نے متفقہ طور پر اُسے پیش کیا تھا۔اس لئے گورنمنٹ نے اُسے منظور کر لیا۔مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اس رخصت سے کماحقہ فائدہ نہ اُٹھایا۔بہت کم مسلمان ہیں جو با قاعدگی کے ساتھ نماز جمعہ میں شامل ہوتے ہیں۔عیسائیوں کو احسن طریق فیصلہ کی دعوت۔۱۴؍ دسمبر ۱۸۹۶ء ڈپٹی عبد اللہ آتھم کے متعلق پیشگوئی اور ان کا انجام اوپر کے صفحات میں درج کیا جا چکا ہے۔ان کی وفات کے بعد جب پادریوں نے بہت شور و غوغا کیا تو حضرت اقدس نے انہیں کہا کہ آؤ روز روز کے جھگڑے ختم کرنے کے لئے تمہیں ایک احسن طریق فیصلہ بتا تا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس بحث کا جو حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے خدا تعالیٰ سے فیصلہ کرایا جائے“ چنانچہ آپ نے فرمایا: ”اگر میری تائید میں خدا کا فیصلہ نہ ہو تو میں اپنی گل املاک منقولہ و غیر منقولہ جو دس ہزار روپیہ سے کم نہیں ہوگی۔عیسائیوں کو دے دوں گا اور بطور پیشگی تین ہزار روپے تک ان کے پاس جمع بھی کراسکتا ہوں۔اس قدر مال کا میرے ہاتھ سے نکل جانا میرے لئے کافی سزا ہوگی۔علاوہ اس کے یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنے دستخطی اشتہار سے شائع کر دوں گا۔کہ عیسائی فتحیاب ہوئے۔اور میں مغلوب ہوا۔اور یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ اس اشتہار میں کوئی بھی شرط نہ ہوگی نہ لفظا نہ معنا۔اور ربانی فیصلہ کے لئے طریق یہ ہوگا کہ میرے مقابل پر ایک معزز پادری صاحب جو پادری صاحبان مندرجہ ذیل میں سے منتخب کئے جائیں جو میدان مقابلہ کے لئے جو تراضی فریقین سے مقرر کیا جائے۔تیار ہوں پھر بعد اس کے ہم دونوں معہ اپنی جماعتوں کے میدان مقررہ میں حاضر ہو جائیں اور خدا تعالیٰ سے دُعا کے ساتھ یہ فیصلہ چاہیں کہ ہم دونوں میں سے جو شخص در حقیقت خدا تعالیٰ کی نظر میں کاذب اور مور د غضب ہے۔خدا تعالیٰ ایک سال میں اس کا ذب پر وہ قہر نازل کرے جو اپنی غیرت کی رُو سے ہمیشہ کا ذب اور مکذب قوموں پر کیا کرتا ہے جیسا کہ اس نے فرعون پر کیا۔نمرود پر کیا اور نوع کی قوم پر کیا اور یہود پر کیا۔حضرات پادری صاحبان یہ بات یا درکھیں کہ اس باہمی دُعا میں کسی خاص فریق پر نہ لعنت ہے نہ بد دعا۔بلکہ اس جھوٹے کو سزا دلانے کی غرض سے ہے۔جو اپنے جھوٹ کو چھوڑ نانہیں چاہتا۔ایک جہاں کے زندہ ہونے سے ایک کا مرنا بہتر ہے۔“ اسی اشتہار میں آگے چل کر حضور فرماتے ہیں: