حیات طیبہ

by Other Authors

Page 183 of 492

حیات طیبہ — Page 183

باوانا نک صاحب مسلمان تھے۔تصانیف ۱۸۹۵ء 183 ۱۸۹۵ء میں حضرت اقدس نے مندرجہ ذیل تصانیف فرمائیں: ا من الرحمن۔اُم الالسنہ کی تحقیق کے لئے یہ ایک لاجواب کتاب ہے۔اس میں آپ نے دلائل قطعیہ کی رو سے یہ ثابت کیا ہے کہ عربی اُم الانسہ ہے۔یہ کتاب مکمل نہ ہونے کی وجہ سے حضرت اقدس کی زندگی میں شائع نہ ہوسکی۔بلکہ بعد کو جس حالت میں کہ آپ کے سامنے تھی۔اُسی حالت میں شائع کر دی گئی۔۲ - نور القرآن حصہ اول و دوئم - ۱۵ / جون و ۲۰ / دسمبر ۹۵ - حضرت اقدس کا ارادہ تھا کہ قرآن کریم کے روحانی کمالات کے اظہار کے لئے ایک ماہوار رسالہ جاری کیا جائے۔چنانچہ آپ نے ایک رسالہ بنام نور القرآن جاری فرمایا۔مگر افسوس کہ کثرت مشاغل کی وجہ سے اس کے صرف دو ہی نمبر نکل سکے۔۳- ست بچن۔اس کتاب میں حضرت اقدس نے اپنے سفر ڈیرہ بابا نانک کے حالات شرح وبسط کے ساتھ بیان فرمائے ہیں۔نیز گورو گرنتھ صاحب اور جنم ساکھیوں سے حضرت باوا نا نک رحمتہ اللہ علیہ کے مسلک پر روشنی ڈالی ہے۔۴- آریہ دھرم - ۲۲ ستمبر ۹۵۔یہ کتاب ۲۲ ستمبر ۹۵ کو شائع ہوئی۔اس میں حضرت اقدس نے کثرت ازدواج، طلاق اور آریوں کے مسئلہ نیوگ کی خوب وضاحت فرمائی ہے۔تحریک تعطیل جمعه یکم جنوری ۱۸۹۶ء یکم جنوری ۹۶؛ کو حضرت اقدس نے کثیر التعداد مسلمانوں کے دستخطوں سے وائسرائے ہند کی خدمت میں ایک میموریل بھیجا۔جس میں گورنمنٹ سے درخواست کی گئی تھی کہ نماز جمعہ کا ادا کرنا مسلمانوں کا ایک مذہبی فریضہ ہے۔لہذا مسلمانوں کو جمعہ کے روز تعطیل دی جایا کرے۔مگر افسوس! مولویوں کے ایک طبقہ اور ان کے زیراثر مسلمانوں نے صرف اس بناء پر اس کی مخالفت کی کہ یہ میموریل حضرت مرزا صاحب کے قلم سے لکھا گیا ہے۔فانا للہ وانا الیہ راجعون۔حضرت اقدس کو جب اس بات کا علم ہوا تو حضور نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو لکھا کہ اگر آپ اس معاملہ میں کوشش کرنا چاہیں۔تو میں جو کچھ اب تک اس معاملہ میں کر چکا ہوں وہ سب کچھ آپ کے حوالہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔مگر مولوی صاحب نے نہ یہ کام خود کیا نہ آپ کو کرنے دیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ مولوی صاحبان کی مخالفت کی وجہ سے اس وقت تو اس معاملہ میں کامیابی نہ ہوئی ، لیکن حضرت اقدس کے وصال کے بعد