حیات طیبہ

by Other Authors

Page 185 of 492

حیات طیبہ — Page 185

185 ” سوائے پادری صاحبان! دیکھو کہ میں اس کام کے لئے کھڑا ہوں۔اگر چاہتے ہو کہ خدا کے حکم سے اور خدا کے فیصلہ سے سچے اور جھوٹے میں فرق ظاہر ہو جائے تو آؤ تا ہم ایک میدان میں دُعاؤں کے ساتھ جنگ کریں تا جھوٹے کی پردہ دری ہو۔یقیناً سمجھو کہ خدا ہے اور بے شک وہ قا در موجود ہے اور وہ ہمیشہ صادقوں کی حمایت کرتا ہے۔سو ہم دونوں میں سے جو صادق ہوگا۔خدا تعالیٰ ضرور اس کی حمایت کرے گا۔یہ بات یاد رکھو کہ جو شخص خدا کی نظر میں ذلیل ہے وہ اس جنگ کے بعد ذلّت دیکھے گا اور جو اس کی نظر میں عزیز ہے وہ عزت پائے گا۔“ پھر فرمایا: ہم دونوں اس طرح پر دعا کریں گے کہ اے خدائے قادر۔اس وقت ہم بالمقابل دو فریق کھڑے ہیں۔ایک فریق یسوع ابن مریم کو خدا کہتا اور نہی اسلام کو سچا نبی نہیں جانتا اور دوسرا فریق عیسی بن مریم کو رسول مانتا اور محض بندہ اس کو یقین رکھتا اور پیغمبر اسلام کو درحقیقت سچا اور یہود اور نصاریٰ میں فیصلہ کرنے والا جانتا ہے۔سو ان دونوں فریق میں سے جو فریق تیری نظر میں جھوٹا ہے۔اس کو ایک سال کے اندر ہلاک کر۔اور اپنا ویل اس پر نازل کر اور چاہئے کہ ایک فریق جب دُعا کرے تو دوسرا آمین کہے اور جب وہ فریق دُعا کرے تو یہ فریق آمین کہے۔اور میری دلی مراد ہے کہ اس مقابلہ کے لئے ڈاکٹر مارٹن کلارک کو منتخب کیا جائے کیونکہ وہ موٹا اور جوان عمر اور اول درجہ کا تندرست اور پھر ڈاکٹر ہے۔اپنی عمر درازی کا تمام بندوبست کر لے گا۔یقینا ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب ضرور ہماری اس درخواست کو قبول کرلیں گے اور اگر وہ بھاگ جائیں تو پادری عماد الدین صاحب اس مقابلہ کے لائق ہیں جنہوں نے ابن مریم کو خدا بنانے کے لئے ہر ایک انسانی چالا کی کو استعمال کیا اور آفتاب پر تھوکا ہے اور اگر وہ بھی اس خوف سے بھاگ گئے کہ خدا کا ویل ضرور انہیں کھا جائے گا تو حسام الدین یا صفدر علی یا ٹھا کر داس یا طامس ہاول اور بالآخر فتح مسیح اس میدان میں آوے۔یا کوئی اور پادری صاحب نکلیں اور اگر اس رسالہ کے شائع ہونے کے بعد دو ماہ تک کوئی بھی نہ نکلا اور صرف شیطانی عذر بہانہ سے کام لیا۔تو پنجاب اور ہندوستان کے تمام پادریوں کے جھوٹے ہونے پر مہر لگ جائے گی اور پھر خدا اپنے طور سے جھوٹ کی بیخ کنی کرے گا۔یادرکھو کہ ضرور کرے گا۔کیونکہ وقت آ گیا۔اے له از اشتہار ۱۴ دسمبر ۱۸۹۶ به مندرجد انجام آنتقم صفحه ۳۴ تا ۴۴