حیات طیبہ

by Other Authors

Page 182 of 492

حیات طیبہ — Page 182

182 ۵- حضرت شیخ عبدالرحیم صاحب (بھائی جی ) ۲- جناب شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی ے۔جناب مرزا ایوب بیگ صاحب - حضرت میر ناصر نواب صاحب ۹ - حضرت میر محمد اسمعیل صاحب ۱۰۔حضرت شیخ حامد علی صاحب قریبا دس بجے قبل دو پہر آپ ڈیرہ باوا نا نک پہنچے۔11 بجے ایک مخلص دوست کی کوشش سے چولہ دیکھنے کا موقعہ ملا۔اس چولہ پر سینکڑوں رومال لیٹے ہوئے تھے۔جو بھی بڑا آدمی آتا۔اس پر کوئی قیمتی رومال بطور چڑھاوا چڑھا جا تا۔مگر کسی کو یہ علم نہیں تھا کہ اس میں کیا لکھا ہوا ہے۔حضرت اقدس اور حضور کے ساتھیوں نے کافی رقم چولہ دکھانے والے شخص کو دے کر چولہ دیکھا۔حضرت اقدس نے مختلف احباب کے ذمہ ڈیوٹی لگا دی تھی کہ فلاں شخص دائیں بازو پر لکھی ہوئی عبارت نقل کریں فلاں بائیں بازو کی اور فلاں سینہ پر کی وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ ہر دوست نے اپنی اپنی ڈیوٹی ادا کی۔معلوم ہوا کہ اس چولہ پر لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ أَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔سورۂ فاتحہ، آیت الکرسی اور سورہ اخلاص وغیرہ لکھی ہوئی ہیں۔چنانچہ حضور نے واپس قادیان تشریف لا کر اس سفر کے حالات پر مشتمل ایک کتاب ست بچن نام لکھی۔جس میں علاوہ چولہ صاحب کا فوٹو درج کرنے کے جنم ساکھیوں سے بھی متعدد حوالے اس امر کے ثبوت میں پیش کئے کہ باوانا نک صاحب مسلمان تھے۔دوم۔پوتھی صاحب۔یہ حضرت باوا نا نک رحمۃ اللہ علیہ کے مسلمان ہونے کا دوسرا اہم ثبوت ہے جو گوگئی سال بعد جا کر ا پریل ۱۹۰۸ ء میں مہیا ہوا، لیکن یکجا طور پر ذکر کرنے کی وجہ سے یہاں ہی درج کیا جاتا ہے اور وہ ثبوت باوانا تک صاحب کی پوتھی صاحب“ ہے۔یہ بھی حضرت باوا صاحب کا ایک تبرک ہے جسے سکھوں نے گورو ہر سہائے ضلع فیروز پور میں نہایت ہی احتیاط کے ساتھ رکھا ہوا ہے یہ پوتھی صاحب سکھوں کے چوتھے گرو رام داس صاحب کی اولاد کے قبضہ میں ہے۔اس پوتھی کے متعلق سکھوں کا بیان ہے کہ حضرت باوا صاحب اسے ہر وقت گلے میں لٹکائے پھرتے تھے اور اکثر اوقات اس کو پڑھتے رہتے تھے۔اس پوتھی صاحب کے درشن کرنے کے لئے بڑی بڑی دور سے لوگ آتے ہیں اور ہزار ہا روپیہ چڑھاوا چڑھاتے ہیں۔یہ پوتھی بھی ”چولہ صاحب“ کی طرح بیسیوں رومالوں میں لپٹی ہوئی ہے اور کھول کر شاذ و نادر کے طور پر ہی کسی کو دکھائی جاتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص اُسے دیکھنا چاہے اسے ایک سو ایک روپیہ نذرانہ دینا پڑتا ہے اور جو بھی گدی نشین ہو۔وہ ایک سو ایک دفعہ نہا کر اسے دکھا تا ہے۔حضرت اقدس کو جب اس پوتھی کا علم ہوا تو آپ نے اس کی زیارت کے لئے اپنے مریدوں کا ایک وفد بھیجا جس نے جا کر اس پوتھی کی زیارت کی۔جب اس پوتھی کو کھولا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ بسم اللہ سے لے کر والناس تک پوری حمائل شریف ( چھوٹی تختی کا قرآن شریف) ہے۔ظاہر ہے کہ یہ دوسرا اہم ثبوت ہے اس امر کا کہ حضرت