حیات طیبہ

by Other Authors

Page 126 of 492

حیات طیبہ — Page 126

126 تمام اولیائے کرام کو کھاپی جانا تھا اور اپنی بدزبانی سے نہ پہلوں کو چھوڑا نہ پچھلوں کو۔اور اپنے ہاتھ سے اُن نشانیوں کو پورا کر رہے ہیں جو آپ بتلا رہے ہیں۔تعجب کہ یہ لوگ آپس میں بھی تو نیک ظن نہیں رکھتے۔تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ موحدین کی بے دینی پر مدار الحق میں شاید تین سو کے قریب مہر لی تھی۔پھر جبکہ تکفیر ایسی مستی ہے تو پھر ان کی تکفیروں سے کوئی کیوں ڈرے۔مگر افسوس تو یہ ہے کہ میاں نذیر حسین اور شیخ بٹالوی نے اس تکفیر میں جعل سازی سے بہت کام لیا ہے اور طرح طرح کے افتراء کر کے اپنی عاقبت درست کر لی ہے۔1 پہلا سالانہ جلسہ دسمبر ۱۸۹۱ء دعویٰ مسیحیت کے بعد کے ایام حضرت اقدس کے لئے نہایت ہی مصروفیت کے ایام تھے۔مخالف علماء نے چاروں طرف مخالفت کی آگ بھڑ کا رکھی تھی مگر حضور بڑے استقلال اور ہمت کے ساتھ کوہ وقار بن کر اس آگ کو بجھانے میں مصروف تھے اور اس غرض کے لیے آپ نے بعض لمبے لمبے سفر بھی اختیار کئے۔مگر جہاں حضور اس عقائد کی جنگ میں شمشیر برہنہ لیکر کھڑے تھے وہاں مبائعین کی تربیت سے بھی غافل نہ تھے۔چنانچہ حضور نے ارشاد الہی کی بناء پر قادیان میں ایک سالانہ جلسہ کی بنیاد رکھی اور اس کے لئے ۲۷؍ دسمبر تا ۲۹ / دسمبر کی تاریخیں مقرر کیں۔چنانچہ پہلے جلسہ میں جو دسمبر ۱۸۹۱ء میں ہوا۔بچپتر احباب شریک ہوئے اور جلسہ کے اغراض و مقاصد کے لئے آپ نے مورخہ ۳۰ دسمبر ۱۸۹۱ ء کو حسب ذیل اعلان فرمایا۔تمام مخلصین داخلینِ سلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہو کہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولا کریم اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل پر غالب آجائے اور ایسی حالت انقطاع پیدا ہو جائے۔جس سے سفر آخرت مکر وہ معلوم نہ ہو لیکن اس غرض کے حصول کے لئے صحبت میں رہنا اور ایک حصہ اپنی عمر کا اس راہ میں خرچ کرنا ضروری ہے تا کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو کسی برہان یقینی کے مشاہدہ سے کمزوری اور ضعف اور گسل دُور ہو اور یقین کامل پیدا ہوکر ذوق اور شوق اور ولولہ عشق پیدا ہو جائے۔سواس بات کے لئے ہمیشہ فکر رکھنا چاہئے اور دعا کرنا چاہئے کہ خدا تعالی یہ توفیق بخشے اور جب تک یہ توفیق حاصل نہ ہو کبھی کبھی ضرور ملنا چاہئے کیونکہ سلسلہ بیعت میں داخل ہو کر پھر ملاقات کی پروانہ رکھنا ایسی بیعت سراسر بے برکت اور صرف ایک رسم کے طور پر ہوگی اور چونکہ ہر ایک کے لئے باعث ضعف فطرت یا کئی مقدرت یا ل منقول از رساله نشان آسمانی صفحه ۴۴۳۴۲