حیات طیبہ

by Other Authors

Page 125 of 492

حیات طیبہ — Page 125

125 مجھے اس بات کو سوچ کر بھی خوشی ہے کہ جو کچھ یہودیوں کے فقیہوں اور مولویوں نے آخر کار حضرت مسیح علیہ السلام کو تحفہ دیا تھا۔وہ بھی تو یونہی لعنتیں اور تکفیر تھی جیسا کہ اہلِ کتاب کی تاریخ اور ہر چہار انجیل سے ظاہر ہے تو پھر مجھے مثیل مسیح ہونے کی حالت میں ان لعنتوں کی آواز میں سن کر بہت ہی خوش ہونا چاہئے کیونکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ کو حقیقت دجالیہ کے ہلاک اور فانی کرنے کے لیے حقیقت عیسویہ سے متصف کیا۔ایسا ہی اس نے اس حقیقت کے متعلق جوجو نوازل و آفات تھے ان سے بھی خالی نہ رکھا لیکن اگر کچھ افسوس ہے تو صرف یہ کہ بٹالوی صاحب کو اس فتویٰ کے تیار کرنے میں یہودیوں کے فقہیوں سے بھی زیادہ خیانت کرنی پڑی اور وہ خیانت تین قسم کی ہے۔اول یہ کہ بعض لوگ جو مولویت اور فتوی دینے کا منصب نہیں رکھتے۔وہ صرف مکفرین کی تعداد بڑھانے کے لئے مفتی قرار دیئے گئے۔دوسرے یہ کہ بعض ایسے لوگ جو علم سے خالی اور علانیہ فسق و فجور بلکہ نہایت بدکاریوں میں مبتلا تھے وہ بہت بڑے عالم متشرع متصور ہو کر ان کی مہریں لگائی گئیں۔ع تیسرے ایسے لوگ جو علم اور دیانت رکھتے تھے مگر واقعی طور پر اس فتویٰ پر انہوں نے مہر نہیں لگائی بلکہ بٹالوی صاحب نے سراسر چالا کی اور افتراء سے خود بخود ان کا نام اس میں جڑ دیا۔ان تین قسم کے لوگوں کے بارے میں ہمارے پاس تحریری ثبوت ہیں اگر بٹالوی صاحب یا کسی اور صاحب کو اس میں شک ہے تو وہ لاہور میں ایک جلسہ منعقد کر کے ہم سے ثبوت مانگیں۔تاسیہ روئے شود ہر کہ در وغش باشد یوں تو تکفیر کوئی نئی بات نہیں۔ان مولویوں کا آبائی طریق یہی چلا آتا ہے کہ یہ لوگ ایک بار یک بات سُن کر فی الفور کپڑوں سے باہر ہو جاتے ہیں اور چونکہ خدا تعالیٰ نے یہ عقل ان کو دی ہی نہیں کہ بات کی تہ تک پہنچیں اور اسرار غامضہ کی گہری حقیقت کو دریافت کر سکیں۔اس لئے اپنی نافہمی کی حالت میں تکفیر کی طرف دوڑتے ہیں اور اولیائے کرام میں سے ایک بھی ایسا نہیں کہ ان کی تکفیر سے باہر رہا ہو۔یہاں تک کہ اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ جب مہدی موعود آئے گا تو اسکی بھی مولوی لوگ تکفیر کرینگے اور ایسا ہی حضرت عیسیٰ جب اُتریں گے تو ان کی تکفیر ہوگی۔ان باتوں کا جواب یہی ہے کہ اے حضرات ! آپ لوگوں سے خدا کی پناہ اللہ سبحانہ خود اپنے برگزیدہ بندوں کو آپ لوگوں کے شر سے بچاتا آیا ہے ورنہ آپ لوگوں نے تو ڈائن کی طرح اُمت محمدیہ کے