حیات طیبہ

by Other Authors

Page 120 of 492

حیات طیبہ — Page 120

120 فرمایا۔خیر جانے دو۔اور لکھنے دو یا لکھوانے دو۔“ اے حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی فرماتے ہیں : پھر جب مولوی محمد بشیر صاحب مضمون لکھوا چکے تو ہم نے (وہ مضمون ) حضرت صاحب کے پاس پہنچا دیا۔فرمایا کہ تم یہیں کھڑے رہو۔دو ورقہ جب تیار ہو جائے تو نقل کرنے کے لئے دوستوں کو دے دینا۔میں نے دیکھا کہ حضور نے اس مضمون پر صفحہ دار ایک اچٹتی نظر ڈالی۔انگلی پھیرتے ہوئے اور پھر ورق الٹ کر اس پر بھی انگلی پھیرتے ہوئے نظر ڈال لی۔اسے علیحدہ رکھ دیا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پڑھا نہیں۔محض ایک سرسری نگاہ سے دیکھا ہے اور جواب لکھنا شروع کر دیا۔جب دو ورقہ تیار ہو گیا تو میں نے نیچے نقل کرنے کے لئے دے آیا۔دو ورقے کو ایک ایک ورق کر کے ایک مولوی عبدالکریم صاحب نے نقل کرنا شروع کیا اور ایک عبدالقدوس صاحب نے۔اسی طرح جب دو ورقہ تیار ہوتا۔میں اوپر سے لے آتا۔اور یہ نقل کرتے رہتے۔حضرت صاحب اس قدر جلد لکھتے تھے کہ ایک دور قد نقل کرنے والوں کے ذمہ فاضل رہتا تھا۔عبدالقدوس صاحب جو خود بہت زود نویں تھے حیران رہ گئے اور ہاتھ لگا کر سیاہی کو دیکھنے لگے کہ یہ پہلے کا تو لکھا ہوا نہیں؟ میں نے کہا اگر ایسا ہو تو یہ ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔غرض اس قدر آپ جھٹ پٹ لکھتے رہے اور ساتھ ہی اس کی نقل بھی ہوتی گئی۔میں نے حضرت اقدس کے جواب کی نقل مولوی محمد بشیر صاحب کو دیدی اور کہا کہ آپ اس کا جواب لکھیں۔انہوں نے جواب میں کہا کہ میں حضرت صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔ہم نے تو نہیں۔لیکن کسی نے حضرت صاحب کو اطلاع کر دی کہ مولوی محمد بشیر صاحب ملنا چاہتے ہیں۔حضور فور اتشریف لے آئے اور مولوی محمد بشیر صاحب نے کہا کہ اگر آپ اجازت فرمائیں تو میں کل جواب لکھ لاؤں گا۔آپ نے خوشی سے اجازت دے دی۔۔۔آخر مباحثہ تک مولوی صاحب کا یہی رویہ رہا۔کبھی انہوں نے سامنے بیٹھ کر نہیں لکھا۔اجازت لے کر چلے جاتے رہے۔واپسی پر پٹیالہ میں قیام اس مباحثہ کے بعد حضرت نے واپسی کا عزم فرمایا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب چونکہ ان دنوں بہ سا ملازمت پٹیالہ میں تھے اس لئے حضور دہلی سے پٹیالہ تشریف لائے اور چند روز وہاں قیام فرمایا۔مورخہ ۳۰/اکتوبر ے بحوالہ حیات احمد جلد سوم صفحه ۱۸۲، ۱۸۳ ملخصاً از رسالہ اصحاب احمد جلد چہارم صفحه ۱۲۴ تا ۱۲۶