حیات طیبہ — Page 119
119 انبیاء کا دعویٰ نبوت و رسالت سچا ہوتا تھا۔اس دعویٰ کی بناء یہ ہے کہ کئی ماہ تک مجھے متواتر الہام ہوتے رہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو گئے اور جس مسیح موعود کا آنا مقدر تھا وہ تو ہے۔مجھ کو کشف سے، الہام سے، رویاء سے متواتر بتلایا گیا۔سمجھایا گیا۔تب بھی میں اس کو یقینی نہیں سمجھا لیکن کئی ماہ کے بعد جب یہ امر تو اتر اور پورے یقین اور حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچ گیا تو میں نے قرآن شریف کھولا اور خیال کیا کہ اس اپنے الہام وغیرہ کو کتاب اللہ پر عرض کرنا چاہئے۔قرآن شریف کے کھولتے ہی سورہ مائدہ کی آیت فَلَمَّا توفیتنی نکل آئی۔میں نے اس پر غور و فکر کیا۔تو اپنے الہامات و کشوف ورد یا کو سی پایا اور مجھ پر کھل گیا اور ثابت ہو گیا کہ بے شک مسیح ابن مریم علیہ السلام فوت ہو گئے۔پھر میں نے اوّل سے آخر تک قرآن شریف کو خوب تدبر اور غور سے پڑھا تو سوائے وفات مسیح کے حیات کا ثبوت مسیح علیہ السلام کی نسبت کچھ نہ نکلا۔پھر میں نے صحیح بخاری کھولی۔خدا کی قدرت ! کھولتے ہی کتاب التفسیر میں دو آیتیں ایک إِنِّي مُتَوَفِّيكَ اور دوسرى فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی نکل آئیں۔ایک کا ترجمہ مُميتك ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور دوسری کا ترجمہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے موجود تھا گویا بخاری نے دونوں آیتوں کو جو دو مختلف مقام پر ہیں ایک جگہ جمع کر کے اپنا مذہب ظاہر کر دیا کہ ان دونوں آیتوں سے مسیح کی موت ثابت ہے اور کچھ نہیں۔پھر تمام صحیح بخاری کو اول سے آخر تک ایک ایک لفظ کر کے پڑھا۔اس میں بھی سوائے موت کے حیات کا کوئی لفظ اشارہ یا کنایہ نہ نکلا۔پھر میں نے صحیح مسلم وغیر گل کتب احادیث لفظا دیکھیں اور خوب غور سے ایک ایک سطر اور ایک ایک حرف پڑھا لیکن کہیں بھی مسیح کی حیات نہ نکلی سوائے موت کے۔رہی نزول کی حدیثیں۔ان میں کہیں نزول من السماء نہیں ہے۔نزول سے حیات کو کیا تعلق؟ جب حیات و رفع الی السماء ثابت نہیں تو پھر نزول کیسا ہے۔نزیل مسافر کو بھی کہتے ہیں جیسا کہ میں نے اب دہلی میں نزول کیا ہے۔“ ابھی آپ کی تقریر ختم نہ ہوئی کہ مولوی محمد بشیر گھبرا کر بول اٹھے کہ آپ اجازت دیں تو میں اس دالان کے پرلے کونے میں جا بیٹھوں اور وہاں کچھ لکھوں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ بہت اچھا۔آپ جہاں چاہیں بیٹھیں۔پس مولوی صاحب پر لے کو نہ میں جا بیٹھے اور مجد دعلی خاں سے مضمون لکھوانے لگے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ شرط یہ ٹھہری تھی کہ قریب بیٹھ کر خود اپنے قلم سے اسی وقت سوال و جواب کے طور پر لکھیں گے لیکن مولوی صاحب دُور جا کر کسی اور سے لکھوانے لگے۔میں نے عرض کیا کہ میں مولوی صاحب سے کہہ دوں۔آپ نے