حیات طیبہ

by Other Authors

Page 121 of 492

حیات طیبہ — Page 121

121 ۱۸۹۱ ء کو پٹیالہ کے ایک مولوی محمد اسحاق صاحب سے مسئلہ حیات و ممات مسیح پر گفتگو ہوئی۔مولوی صاحب موصوف نے کہا کہ احادیث میں لکھا ہے کہہ حضرت مسیح بن مریم چند گھنٹے کے لئے ضرور فوت ہو گئے تھے۔مگر ہمیشہ کے لئے نہیں بلکہ وہ پھر زندہ ہوکر آسمان پر چلے گئے تھے۔حضرت اقدس نے انکو سمجھایا کہ کسی انسان پر دومو تیں وارد نہیں ہوسکتیں اور حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق بھی قرآن وحدیث سے یہ ثابت نہیں کہ آپ پر دو موتیں وارد ہوں گی اور بھی کئی دلائل سے انہیں سمجھایا گیا، لیکن انہوں نے عوام میں جا کر اپنی فتح کا نقارہ بجانا شروع کر دیا۔اس پر حضرت اقدس نے ایک اشتہار کے ذریعہ پٹیالہ کی پبلک کو آگاہ کیا کہ اگر مولوی صاحب اپنے بیان میں بچے ہیں اور ہمارا یہ بیان غلط ہے تو مولوی صاحب پر فرض ہے کہ ایک جلسہ عام مقرر کر کے ہمارے ساتھ بحث کر لیں۔اس پر مولوی صاحب نے چپ سادھ لی اور مقابل پر نہ آئے۔لے آسمانی فیصلہ کی دعوت حضرت اقدس نے جب دیکھا کہ ملک کے چوٹی کے علماء کو اور پھر دہلی جیسے مرکزی شہر میں جا کر اتمام حجت کر چکا ہوں۔مگر علماء دلائل کے میدان میں آنے سے گریز کرتے ہیں اور اگر کوئی مقابلہ پر آئے بھی تو وہ اپنی ظاہری عزت اور وجاہت کو خیر باد کہنے کے لئے تیار نظر نہیں آتا۔تو ایک ایسی راہ اختیار کی جو مذہب کی جان ہے اور جس کے بغیر کوئی شخص آسمانی روح اپنے اندر رکھنے کا دعویدار ہی نہیں ہوسکتا۔آپ نے علماء کو دعوت دی کہ اگر آپ لوگ خدا تعالیٰ کے نزدیک فی الحقیقت مومن ہیں اور آسمان کے ساتھ آپ لوگوں کو کوئی روحانی مناسبت ہے تو آؤ! آسمانی تائیدات میں میرا مقابلہ کر کے دیکھ لو۔اگر آپ لوگ کامل مومن اور متقی ہیں تو اللہ تعالیٰ یقینا آپ لوگوں کی تائید کریگا، لیکن اگر اس نے آپ لوگوں کو مخذول اور مہجور کر دیا اور تائید الہی میرے شامل حال ہوگئی تو پھر تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ حق کس کے ساتھ ہے اور باطل پر کون ہے؟ چنانچہ آپ نے اس ضمن میں کامل مومن کی چار علامتیں بیان فرمائیں : اول یہ کہ کامل مومن کو خدا تعالیٰ سے اکثر بشارتیں ملتی ہیں۔یعنی پیش از وقوع خوشخبریاں جو اس کی مرادات یا اس کے دوستوں کے مطلوبات ہیں۔اس کو بتلائی جاتی ہیں۔دوم یہ کہ مومن کامل پر ایسے امور غیبیہ کھلتے ہیں جو نہ صرف اس کی ذات یا اس کے واسطہ داروں سے متعلق ہوں۔بلکہ جو کچھ دنیا میں قضا وقدر نازل ہونے والی ہے یا بعض دنیا کے افراد مشہورہ پر کچھ تغیرات آنے والے ہیں۔ان سے برگزیدہ مومن کو اکثر اوقات خبر دی جاتی ہے۔لو خلاصه از اشتہا ر ۳۱ اکتوبر ۱۸۹۱ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد دوم صفحه ۵۶، ۵۷