حیات طیبہ

by Other Authors

Page 98 of 492

حیات طیبہ — Page 98

98 اول درجہ کا ہے اور آپ جو تحریر کو پسند کرتے ہیں اس لئے نہیں کہ آپ تقریر کرنے میں عاجز ہیں بلکہ اس واسطے کہ تحریر سے حق و باطل کا خوب فیصلہ ہو جاوے اور ہر ایک پوری طرح احقاق حق اور ابطال باطل میں تمیز کرلے اور حاضر و غائب پر پورا پورا سچ اور جھوٹ کھل جاوے۔مولوی صاحب اس پر خفا ہوتے اور کہتے کہ لوگو! تم سننے کو آئے ہو یا واہ واہ اور سبحان اللہ کہنے کو آئے ہو۔اور جو دونوں طرف کی تحریریں ہیں وہ طبع ہو چکی ہیں۔ان کے لکھنے کی ضرورت نہیں۔1 اس میں مباحثہ میں حضرت اقدس علیہ السلام نے حدیث اور قرآن شریف پر سیر کن بحث کی ہے اور آئندہ کے لئے تمام بحثوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔چھ سات روز تک یہ مباحثہ حضرت اقدس علیہ السلام کے مکان پر ہوا۔اب مولوی صاحب نے پیر پھیلائے اور چاہا کہ کسی طرح سے پیچھا چھوٹے۔بہانہ یہ بنایا کہ اتنے روز تو آپ کے مکان پر مباحثہ رہا۔اب میری جائے فرودگاہ یعنی مولوی محمد حسن کے مکان پر مباحثہ ہونا چاہئے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ بھی منظور فرمالیا اور باقی دنوں تک مولوی محمد حسن کے مکان پر مباحثہ رہا۔جب حضرت اقدس علیہ السلام وہاں تشریف لے جاتے تو میں حاضر ہو جاتا۔ورنہ مجھے بلوا لیتے اور جب تک میں حاضر نہ ہو لیتا تو آپ تشریف نہ لے جاتے آخر کار یہ ہوا کہ چالاکیاں تو مولوی محمد حسین نے بہت کیں مگر کوئی چالا کی نہ چلی لیکن ایک پرچہ پھر بھی چرالیا۔جس کا مباحثہ میں حوالہ دیا گیا۔مولوی محمد حسن کے مکان پر دو چار ہی لوگ ہوتے تھے۔تیرہ روز تک یہ مباحثہ رہا اور لوگ بہت سے تنگ آگئے اور چاروں طرف سے خطوط آنے لگے اور خاص کر لدھیانہ کے لوگوں نے غل مچایا کہ کہاں تک اصول موضوعہ میں مباحثہ رہے گا۔اصل مطلب جو وفات وحیات مسیح کا قرار پایا ہے وہ ہونا چاہئے۔خدا کرے ان اصول موضوعہ مولوی صاحب کا ستیا ناس ہووے۔اور حضرت اقدس علیہ السلام نے بھی بار ہا فرمایا۔مباحثہ تو وفات وحیات مسیح میں ہونا ضروری ہے تا کہ سب مسائل کا یکدم فیصلہ ہو جاوے مگر مولوی صاحب اس اصل مسئلہ کی طرف نہ آئے پر نہ آئے۔مولوی صاحب کے پاس چونکہ دلائل حیات مسیح کے نہ تھے۔اس واسطے اس بحث کو ٹالتے رہے۔۔۔غرض جب تیرہواں روز مباحثہ کا ہوا تو عیسائی، مسلمان، ہندو وغیرہ کا بہت ہجوم ہوگیا۔۔۔حضرت اقدس علیہ السلام نے مضمون سنانے سے پہلے فرمایا کہ مولوی صاحب۔یہ مباحثہ طول پکڑ گیا ہے اس کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے اصل مطلب وفات وحیات مسیح میں بحث لے یہ مباحثہ الحق لدھیانہ کے نام سے چھپ چکا ہے۔(مولف)