حیات طیبہ

by Other Authors

Page 97 of 492

حیات طیبہ — Page 97

97 صاحب بٹالوی مولوی محمد حسن صاحب، سعد اللہ نومسلم اور پانچ سات اور اشخاص کو لے کر حضرت کے مکان پر پہنچا۔تو اُس نے ایک سوال لکھ کر حضرت اقدس کے آگے رکھ دیا۔حضرت اقدس نے جواب لکھ دیا اور مجھ سے فرمایا کہ کئی فلم بنا کر میرے پاس رکھ دو اور جو ہم لکھتے جائیں اس کی نقل کرتے جاؤ۔چنانچہ میں نقل کرنے لگا اور آپ لکھنے لگے۔جب سوال و جواب اس دن کے لکھ لئے تو مولوی محمد حسین صاحب نے خلاف عہد زبانی وعظ شروع کر دیا اور بیان کیا کہ مرزا صاحب کا جو یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم حدیث پر مقدم ہے یہ عقیدہ صحیح نہیں ہے بلکہ یہ عقیدہ چاہئے کہ حدیث قرآن شریف پر مقدم ہے اور قرآن شریف کے متعلق مسائل کو حدیث کھولتی ہے اور یہی فیصلہ کن ہے۔خلاصہ مولوی صاحب کی تقریر کا یہی تھا۔پھر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ پہلے چونکہ یہ معاہدہ ہو چکا تھا کہ زبانی تقریر کوئی نہ کرے۔مولوی صاحب نے اس معاہدے کے خلاف تقریر کی ہے سو میرا بھی حق ہے کہ میں بھی کچھ تقریر زبانی کروں پھر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب کا یہ عقیدہ کسی طرح صحیح اور درست نہیں ہے کہ حدیث قرآن شریف پر مقدم ہے۔ناظرین اسٹننے کے لائق یہ بات ہے کہ چونکہ قرآن شریف وحی متلو ہے اور تمام کلام مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جمع ہو چکا تھا اور یہ کلام الہی تھا اور حدیث شریف کا ایسا انتظام نہیں تھا اور نہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لکھی گئی تھیں اور وہ مرتبہ اور درجہ جو قرآن شریف کو حاصل ہے وہ حدیث کو نہیں ہے کیونکہ یہ روایت در روایت پہنچی ہیں۔اگر کوئی شخص اس بات کی قسم کھاوے کہ قرآن شریف کا حرف حرف کلام الہی ہے اور جو یہ کلام الہی نہیں ہے تو میری بیوی پر طلاق ہے تو شرعا اس کی بیوی پر طلاق وارد نہیں ہوسکتا اور جو حدیث کی نسبت قسم کھا وے اور کہے کہ لفظ لفظ حرف حرف حدیث کا وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہے اگر نہیں ہے تو میری جو رو پر طلاق ہے تو بیشک وشبہ اس کی بیوی پر طلاق پڑ جائے گی۔یہ حضرت اقدس علیہ السلام کی زبانی تقریر کا خلاصہ ہے۔اس بیان اور تقریر اور نیز اس پر چہ تحریری پر جو حضرت اقدس علیہ السلام سناتے تھے چاروں طرف سے واہ واہ کے اور سبحان اللہ سبحان اللہ کے نعرے بلند ہوتے تھے اور یہاں تک ہوتا تھا کہ سوائے سعد اللہ اور مولوی صاحب کے ان کی طرف کے لوگ بھی سبحان اللہ بے اختیار بول اُٹھتے تھے۔دو تین شخصوں نے کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ مرزا صاحب جو زبانی بحث نہیں کرتے اور تحریری کرتے ہیں وہ تقریر نہیں کر سکتے مگر آج معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کو زبانی تقریر بھی اعلیٰ درجہ کی آتی ہے اور ملکہ تقریر کرنے کا بھی