حیات طیبہ — Page 99
99 ہونی مناسب ہے مگر مولوی صاحب کب ماننے والے تھے۔ان کے ہاتھ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات میں کیا دھرا تھا۔جب حضرت اقدس علیہ السلام نے پر چہ عنانا شروع کیا تو مولوی صاحب کا چہرہ سیاہ پڑ گیا اور ایسی گھبراہٹ ہوئی اور اس قدر ہوش وحواس باختہ ہوئے کہ نوٹ کرنے کے لئے جب قلم اُٹھایا تو زمین پر قلم مارنے لگے۔دوات بجوں کی توں رکھی رہ گئی اور قلم چند بارزمین پر مارنے سے ٹوٹ گیا۔اور جب یہ حدیث آئی کہ بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو حدیث میری معارض قرآن ہو وہ چھوڑ دی جائے اور قرآن کو لے لیا جائے۔اس پر مولوی محمد حسین کو نہایت غصہ آیا اور کہا کہ یہ حدیث بخاری میں نہیں ہے اور جو یہ حدیث بخاری میں ہو تو میری دونوں بیویوں پر طلاق ہے۔اس طلاق کے لفظ سے تمام لوگ ہنس پڑے اور مولوی صاحب کو مارے شرم کے کچھ نہ بن پڑا اور بعد میں کئی روز تک لوگوں سے مولوی صاحب کہتے رہے کہ نہیں نہیں میری دونوں بیویوں پر طلاق نہیں ہوا اور نہ میں نے طلاق کا نام لیا ہے۔اب جو دس ہیں سو دو سو کو خبر تھی تو مولوی صاحب نے ہزاروں کو خبر دیدی۔مولوی صاحب پر غضب اور مغلوب الغضب تو تھے ہی۔خدا جانے کیا کیا زبان سے نکلا اے یہ مباحثہ متواتر بارہ روز جاری رہا۔۲۰ جولائی ۱۸۹۱ء کو شروع ہوا اور اکتیس جولائی ۱۸۹۱ء کو ختم ہوا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے ازالہ اوہام کے آخر میں اس مباحثہ کی مفصل روئیداد شائع فرمائی ہے نیز یہ مباحثہ الحق لدھیانہ کے نام سے چھپا ہوا بھی موجود ہے۔مولوی محمد حسین صاحب کا جوش غضب اور ڈپٹی کمشنر لدھیانہ کا اقدام مولوی محمد حسین صاحب سے جب مباحثہ میں کچھ نہ بنا تو انہوں نے غضب آلود ہو کر اشتعال انگیز حرکات شروع کر دیں جن سے شہر میں فساد کا خطرہ پیدا ہونے کا احتمال ہو گیا۔جب ڈپٹی کمشنر صاحب لدھیانہ کو مولوی صاحب کی ان حرکات کی رپورٹ پہنچی تو انہوں نے مولوی صاحب کو شہر سے چلے جانے کا حکم دیدیا چنانچہ وہ لا ہور چلے گئے۔حضرت اقدس نے اس خیال سے کہ شاید فریقین کے لئے لدھیانہ سے اخراج کا مساوی حکم جاری کیا گیا ہو۔مورخہ ۵/اگست کو اصل حقیقت معلوم کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر لدھیانہ کو ایک چٹھی لکھی۔جس کا جواب ۶؎ اگست کو ڈپٹی کمشنر کی طرف سے یہ آیا کہ از پیش گاہ مسٹر ڈبلیو چٹوس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر لدھیانہ ل از تذكرة المهدی مصنفہ حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی