حیات طیبہ — Page 96
96 اس کے پس پردہ بھی چونکہ مولوی محمد حسین صاحب ہی کام کر رہے تھے اس لئے اس خط و کتابت کے نتیجہ میں بھی کوئی فیصلہ نہ ہوسکا اور یہ خط و کتابت بھی ۱۳ / جون ۱۸۹۱ء کو بند کر دی گئی مگر لوگوں میں مناظرہ سننے کی شدید خواہش پائی جاتی تھی اور حضرت اقدس بھی چاہتے تھے کہ کسی طرح پر وفات مسیح اور مسیح موعود کے مسائل زیر بحث آجائیں۔سفر امرتسر اور مباحثہ لدھیانہ کے اسباب اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے جن کے نتیجہ میں مولوی محمد حسین صاحب مباحثہ کرنے پر مجبور ہو گئے اور وہ اس طرح سے کہ جب ۱۳ جون کو مولوی محمد حسن صاحب کے ساتھ باہمی مراسلات کا سلسلہ ختم ہو گیا تو حضرت اقدس اوائل جولائی ۱۸۹۱ء میں امرتسر کے بعض رؤسا کی خواہش پر امرتسر تشریف لے گئے۔وہاں اہلحدیث کے دو گروہ بن چکے تھے۔ایک فریق مولوی احمد اللہ نے صاحب کا تھا اور دوسراغز نویوں کا۔حضرت اقدس نے بتاریخ ۷ / جولائی (۱۸۹ و مولوی احمد اللہ صاحب کو بشرط قیام امن تحریری مناظرہ کی دعوت دی۔مگر مولوی صاحب اس پر آمادہ نہ ہوئے۔نتیجہ یہ نکلا کہ مولوی احمد اللہ صاحب کی جماعت کے چند افراد حضرت اقدس کی بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہو گئے۔ان داخل ہونے والوں میں حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب۔حضرت میاں نبی بخش صاحب رفوگر اور حضرت مولوی عنایت اللہ صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ان حضرات کا سلسلہ میں داخل ہونا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب مباحثہ کے لئے مجبور ہو گئے۔چنانچہ جب حضرت اقدس امرتسر سے لودھیانہ تشریف لے گئے تو مباحثہ لدھیانہ ۲۰ جولائی ۱۸۹۱ء کو حضرت اقدس کی جائے قیام پر ہی مباحثہ کا آغاز ہوا۔اس مباحثہ میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور منشی غلام قادر صاحب فصیح سیالکوٹی کے علاوہ کپور تھلہ اور ضلع لدھیانہ کی جماعتوں کے احباب خاص طور پر شریک تھے۔حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی کا بیان حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ : میں حضرت اقدس کے تحریری مضمون کی ساتھ ساتھ نقل کرتا جاتا تھا۔جب مولوی محمد حسین لے مولوی احمد اللہ صاحب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے شاگرد اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے اُستاد تھے۔