حیات طیبہ

by Other Authors

Page 95 of 492

حیات طیبہ — Page 95

95 میں بآواز بلند کہتا ہوں کہ میرے پر خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور القاء سے حق کھول دیا ہے اور وہ حق جو میرے پر کھولا گیا ہے وہ یہ ہے کہ در حقیقت مسیح بن مریم فوت ہو چکا ہے اور اس کی روح اپنے خالہ زاد بھائی۔یحیی کی رُوح کے ساتھ دوسرے آسمان پر ہے۔اس زمانہ کے لئے جوڑ وحانی طور پر مسیح آنے والا تھا جس کی خبر احادیث صحیحہ میں موجود ہے۔وہ میں ہوں۔یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے جولوگوں کی نظروں میں عجیب اور تحقیر سے دیکھا جاتا ہے اور میں کھول کر لکھتا ہوں کہ میرا دعویٰ صرف مبنی بر الہام نہیں بلکہ سارا قرآن شریف اس کا مصدق ہے۔تمام احادیث صحیحہ اس کی صحت کی شاہد ہیں۔عقل خدا داد بھی اسی کی موید ہے۔اگر مولوی صاحبان کے پاس مخالفانہ طور پر شرعی دلائل موجود ہیں تو وہ عام جلسہ کر کے بطریق مذکورہ بالا مجھ سے فیصلہ کر لیں۔بیشک حق کو غلبہ ہوگا۔میں بار بار کہتا ہوں کہ میں سچ پر ہوں۔مولوی صاحبان سراسر اپنے علم کی پردہ دری کراتے ہیں جبکہ وہ کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ قرآن اور حدیث کے برخلاف ہے۔اے حضرات ! اللہ جل شانہ آپ لوگوں کے دلوں کو نور ہدایت سے منور کرے یہ دعویٰ ہرگز قال اللہ اور قال الرسول کے برخلاف نہیں۔بلکہ آپ لوگوں کو سمجھ کا پھیر لگا ہوا ہے۔اگر آپ لوگ جلسہ کر کے مقام و تاریخ مقرر کر کے ایک عام جلسہ میں مجھ سے تحریری بحث نہیں کریں گے تو آپ خدا تعالیٰ کے نزدیک اور نیز راستبازوں کی نظر میں بھی مخالف ٹھہریں گے اور مناسب ہے کہ جب تک میرے ساتھ بالمواجہ تحریری طور پر بحث نہ کر لیں اس وقت تک عوام الناس کو بہکانے اور مخالفانہ رائے ظاہر کرنے سے اپنا منہ بند رکھیں اور اس آیت کریمہ لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ علم سے ڈریں۔ورنہ یہ حرکت حیا اور ایمان اور خدا ترسی اور منصفانہ طریق کے برخلاف سمجھی جائے گی اور واضح رہے کہ اس اشتہار کے عام طور پر تمام مولوی صاحبان مخاطب ہیں جو مخالفانہ رائے ظاہر کر چکے ہیں اور خاص طور پر ان سب کے سر گروہ یعنی مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی۔مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی۔مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی۔مولوی عبدالرحمن صاحب لکھو کے والے۔مولوی شیخ عبید اللہ صاحب تبتی۔مولوی عبد العزیز صاحب لدھیانوی معہ برادران اور مولوی غلام دستگیر قصوری۔“ ۱؎ مولوی محمد حسن سے بھی خط و کتابت بند ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب کے بعد مولوی محمد حسن سے خط و کتابت شروع ہو گئی مگر له از ضروری اشتہار مورخہ ۲۶ / مارچ ۱۸۹۱ ء مندرجہ حیات احمد جلد سوم صفحه ۸۴ تا ۹۰