حیات طیبہ

by Other Authors

Page 94 of 492

حیات طیبہ — Page 94

94 بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی محتی اخویم مولوی صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته عنایت نامہ پہنچا۔اس عاجز کو کوئی نئی بات معلوم نہیں ہوتی جس کا جواب لکھا جائے اس عاجز کے دعوی کی بنا الہام پر تھی۔اگر آپ ثابت کرتے کہ قرآن اور حدیث اس دعویٰ کے مخالف ہیں اور پھر یہ عاجز آپ کے ان دلائل کو اپنی تحریر سے توڑ نہ سکتا تو آپ تمام حاضرین کے نزدیک سچے ہو جاتے اور بقول آپ کے میں اس الہام سے تو بہ کرتا خیر اب ”ازالۃ الاوہام‘ کارڈ لکھنا شروع کیجئے۔لوگ خود دیکھ لیں گے۔والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ اے مولوی محمد حسین دوسرے پیرا یہ میں مولوی محمد حسین صاحب نے جب دیکھا کہ میرے غیر معقول رویہ کی وجہ سے (حضرت اقدس ) مرزا صاحب نے مزید خط و کتابت بند کر دی ہے تو اپنا آلہ کار مولوی محمد حسن صاحب رئیس لدھیانہ کو بنایا۔یعنی خط خود لکھتے تھے مگر یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ مولوی محمد حسن صاحب نے لکھے ہیں دستخط ان سے کروا لیتے تھے۔حضرت اقدس گو اصل حقیقت کو جانتے تھے مگر آپ نے یہ پسند نہ فرمایا کہ ان کا جواب نہ دیا جائے چنانچہ خط و کتابت کا سلسلہ پھر دوبارہ ایک دوسرے پیرا یہ میں شروع ہو گیا مگر باتیں وہی تھیں جن کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے اس لئے ان کے اندراج کی چنداں ضرورت نہیں۔ضروری اشتہار حضرت اقدس نے جب دیکھا کہ مولوی صاحبان مناظرہ کا چیلنج تو دیتے ہیں مگر مقابلہ پر نہیں آتے اور دوسری طرف مخالفانہ پراپیگینڈہ کر کے عوام الناس کو آپ کے خلاف اکسا رہے ہیں تو آپ نے ”ضروری اشتہار کے عنوان سے تمام علماء اور پبلک پر اتمام حجت کی غرض سے ایک اشتہار شائع فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ علماء جو مجھ پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ گویا میں ملائک ، لیلتہ القدر اور معجزات مسیح کا منکر ہوں۔تو وہ ایک عام جلسہ کر کے میرے ساتھ تحریری طور پر مباحثہ کیوں نہیں کرتے تا تمام لوگوں پر حق ظاہر ہو جائے۔اس اشتہار کے آخر میں حضور نے تحریر فرمایا کہ لے حیات احمد حصہ سوم صفحہ ۷۹