حیات طیبہ

by Other Authors

Page 93 of 492

حیات طیبہ — Page 93

93 گا اور اپنے زور آور حملوں سے میری سچائی ظاہر کر دے گا۔رہا ابن مریم کا فوت ہونا۔سو فوت ہونے کے دلائل لکھنا میرے پر کچھ فرض نہیں۔کیونکہ میں نے کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا جو خدا تعالیٰ کی سنت قدیمہ کے مخالف ہو۔بلکہ مسلسل طور پر ابتدائے حضرت آدم سے یہی طریق جاری ہے جو پیدا ہوا وہ آخر ایک دن جوانی کی حالت میں یا بڑھا ہو کر مرے گا جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں۔وَمِنْكُمْ مَّنْ يُتَوَفَّى وَمِنْكُمْ مِّنْ يُرِدالَى ارُذَلِ الْعُمُرِ لِكَى لَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا۔پس جبکہ میرے پر یہ فرض ہی نہیں کہ میں مسیح کے فوت ہونے کے دلائل لکھوں۔یہ آپ کا حق ہے کہ میرے بیان کے ابطال کے لئے پہلے آپ قلم اُٹھا ئیں اور آیات اور احادیث سے یہ ثابت کر دکھا ئیں کہ سارا جہان تو اس دنیا سے رخصت ہوتا گیا اور ہمارے نبی کریم بھی وفات پاگئے۔مگر مسیح اب تک وفات پانے سے باقی رہا ہوا ہے کسی مناظر کو پوچھ کر دیکھ لیں کہ آداب مناظرہ کیا ہیں؟ اب یہ بھی یادر ہے کہ آپ کی دوسری سب بخشیں مسیح کے زندہ مع الجسد اٹھائے جانے کی فرع ہیں۔اگر آپ یہ ثابت کر دیں گے کہ مسیح زنده بجسده العنصری آسمان کی طرف اُٹھایا گیا تو پھر آپ نے سب کچھ ثابت کر دیا۔غرض پہلے تحریر کرنا آپ کا حق ہے اگر اب بھی آپ مانتے نہیں تو چند غیر قوموں کے آدمیوں کو منصف مقرر کر کے دیکھ لو۔“ بالآخر ایک مثال بھی سنے۔زید ایک مفقود الخبر ہے جس کے گم ہونے پر مثلاً دوسو برس گزر گیا۔خالد اور ولید کا اس کی حیات اور وفات کی نسبت تنازع ہے اور خالد کو ایک خبر دینے والے نے خبر دی که در حقیقت زید فوت ہو گیا لیکن ولید اس خبر کا منکر ہے۔اب آپ کی کیا رائے ہے؟ بار ثبوت کس کے ذمہ ہے کیا خالد کو موافق اپنے دعوئی کے زید کا مرجانا ثابت کرنا چاہئے یا ولید زید کا اس مدت تک زندہ رہنا ثابت کرے؟ کیا فتوی ہے۔1 مولوی محمد حسین سے خط و کتابت بند جب حضرت اقدس نے دیکھا کہ مولوی صاحب بجز غیر ضروری خط و کتابت اور لاف و گزاف کے کسی معقول بات کی طرف آتے ہی نہیں تو آخر اپریل ۱۸۹۱ء میں مندرجہ ذیل خط کے ذریعہ آئندہ کے لئے خط و کتابت بند کر دی۔ه از مکتوب حضرت اقدس مورخه ۱/۲۰ پریل ۱۸۹۱ء بنام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بحوالہ حیات احمد جلد سوم صفحہ ۷۹،۷۸