حیات طیبہ

by Other Authors

Page 87 of 492

حیات طیبہ — Page 87

87 پتوں کے ساتھ ایک رجسٹر میں محفوظ کر لئے جائیں۔اس لئے حضور نے حکم دیا کہ ہر بیعت کرنے والا اپنا نام معہ مکمل پستہ ایک کاغذ کے پرزہ پر لکھ کر دیدے۔چنانچہ حضور کے حکم کی تعمیل کی گئی۔کچھ دنوں کے بعد ایک رجسٹر تیار کیا گیا جس پر لکھا گیا۔بیعت کنندگان کی ترتیب بیعت تو بہ برائے حصول تقوی وطہارت اس رجسٹر میں بعض ابتدائی نام تو حضرت اقدس نے خود درج فرمائے لیکن پھر بعد کو مختلف اوقات میں بعض اور لوگوں نے بھی اُن پر چیوں سے لے کر نام درج کئے چونکہ پرچیوں پر نام ہونے کی وجہ سے بیعت کرنے والوں کی ترتیب محفوظ نہ رہ سکی۔اس لئے اس بارہ میں کچھ اختلاف سا پیدا ہوگیا ہے کہ صحیح ترتیب کیا ہے؟ بہر حال اس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے پہلے بیعت کرنے والے حاجی الحرمین مولانا نورالدین صاحب بھیروی اور دوسرے نمبر پر میر عباس علی صاحب لودھیانوی تھے جو بعد میں دعویٰ مسیح موعود کے وقت علیحدہ ہو گئے تھے۔ان کے بعد بیعت کرنے والے معروف آدمیوں کے نام بغیر کسی ترتیب کے درج ذیل ہیں: حضرت میاں محمد حسین صاحب مراد آبادی خوشنویس۔حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری۔حضرت قاضی خواجہ علی صاحب۔حضرت میر عنایت علی صاحب۔حضرت چوہدری رستم علی صاحب۔حضرت مولوی عبداللہ صاحب ساکن جنگی علاقہ چارسدہ۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب۔حضرت منشی اروڑے خاں صاحب۔حضرت منشی محمد خان صاحب۔حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب۔حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب۔حضرت شیخ عبد العزیز نو مسلم سابق رام سنگھ۔رضوان اللہ علیہم اجمعین۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے اس روز بیعت کرنے کے بارہ میں اختلاف ہے۔مگر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب کے نزدیک حضرت مولوی صاحب نے پہلے دن ہی بیعت کی تھی اپنے متعلق بھی حضرت شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے گو پہلے دن بیعت نہیں کی تھی مگر انہیں ایام میں بیعت ضرور کی تھی اور یہ ذرا سا توقف بھی اس لئے ہو گیا تھا کہ مجھے اس وقت حضور کے دعویٰ مثیل مسیح ہونے کے متعلق شرح صدر نہ تھا۔اس لئے رسالہ فتح اسلام پڑھ کر لاہور میں دوبارہ بیعت کی۔افسوس ہے کہ اصل رجسٹر جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے اس کا وہ ورق جس میں ابتدائی آٹھ ناموں کی فہرست تھی۔ضائع ہو گیا ہے۔ورنہ ترتیب بیعت کنندگان کے متعلق تاریخ ذرا زیادہ محفوظ ہو جاتی۔