حیات طیبہ

by Other Authors

Page 86 of 492

حیات طیبہ — Page 86

86 ابھی حضور لدھیانہ پہنچے ہی تھے کہ شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کے فرزند کی شادی میں شرکت کے لئے مدعو کئے گئے اس خاندان کے ساتھ حضور کے پرانے تعلقات تھے۔۱۸۸۶ء کی چلہ کشی کے ایام میں بھی حضور نے شیخ صاحب کے ہی ایک مکان پر قیام فرمایا تھا۔اس لئے قدیم مراسم کی وجہ سے حضور شادی میں شمولیت کے لئے ہوشیار پور تشریف لے گئے۔بیعت اولی - ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء لدھیانہ میں بیعت لینے کے لئے آپ نے حضرت منشی صوفی احمد جان رضی اللہ عنہ کے مکان کو پسند فرمایا۔حضرت منشی صاحب موصوف ایک نہایت ہی پاک باطن اور متقی انسان تھے۔اس نواح میں ان کے سینکڑوں مرید تھے جو اُن کے ساتھ حد درجہ اخلاص رکھتے تھے۔حضرت اقدس کی مشہور تصنیف براہین احمدیہ کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ آپ پر ہزار جان سے فدا ہو چکے تھے اور خواہشمند تھے کہ اپنا پیری مریدی کا سلسلہ ترک کر کے آپ کی بیعت کر لیں۔چنانچہ انہوں نے حضور کو مخاطب کر کے یہ شعر بھی پڑھا تھا۔تمہیں پہ نظر ہم مریضوں کی ہے تم مسیحا بنو خدا کے لئے اس وقت حضرت اقدس نے انہیں یہ جواب دیا تھا کہ میں ابھی بیعت لینے کے لئے مامور نہیں کیا گیا ہوں، لیکن جب حضرت اقدس نے بیعت لینے کا اعلان فرمایا تو وہ فوت ہو چکے تھے۔فاناللہ وانا الیہ راجعون اے۔حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کی شادی بھی حضرت اقدس نے کوشش کر کے انہی کی صاحبزادی صغری بیگم صاحبہ سے کروائی تھی۔دار البیعت حضرت منشی صوفی احمد جان مرحوم کے مکان کے جس حجرہ میں حضرت اقدس نے سب سے پہلے بیعت لی وہ دارالبیعت کے نام سے موسوم ہوا۔حضرت منشی صاحب مرحوم کی اولاد خدا تعالیٰ کے فضل سے ساری کی ساری احمدیت میں شامل ہوئی۔اس نے یہ مکان سلسلہ کے لئے وقف کر دیا تھا لیکن افسوس کہ ۱۹۴۷ء کے انقلاب میں عارضی طور پر وہ جماعت کے قبضہ سے نکل گیا مگر انشاء اللہ بہت جلد واپس مل جائے گا۔يوم السبحت بیعت ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کے روز شروع ہوئی۔حضرت اقدس کا منشاء تھا کہ بیعت کنندگان کے اسماء مکمل لے حضرت اقدس نے ان کو مبائعین میں شامل فرمایا بلکہ ۳۱۳صحابہ میں بھی۔دیکھیں رجسٹر بیعت و انجام آتھم