حیات قدسی — Page 544
۵۴۴ وزن پر رکھا جائے تو خلیل بنتا ہے۔رحمت کو اگر فعلان کے وزن پر رکھا جائے تو رحمان بنتا ہے اور ان دونوں کو ملانے سے خلیل الرحمن کا نام بنتا ہے۔ان چیستانی اشعار کی تشریح سن کر سب علماء بہت محظوظ ہوئے اور میری باتوں میں دلچسپی لینے لگے۔چنانچہ میں نے اس دلچسپی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے احمد یہ جماعت کے عقاید سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اور حضور کے بیان فرمودہ قرآنی معارف کے متعلق کئی باتیں بیان کیں اور یہ علمی مذاکرہ کئی روز تک جاری رہا۔اس دوران میں ایک صوفی صاحب نے بھی بہت سے سوالات قرآنی آیات اور علم تصوف کے مرموز کلام کے متعلق دریافت کئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کا نہایت عمدہ موقع میتر آیا۔فالحمد للہ علی ذالک ( صوفی صاحب کے سوالات اور ان کے جوابات انشاء اللہ تعالیٰ کسی دوسرے مقام پر درج کئے جائیں گے۔مرتب ) مذہب کی تعریف اور اس کی ضرورت مندرجہ ذیل مضمون ۱۹۴۵ء میں میں نے لکھ کر مکر می مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر کو دیا تھا جو انہوں نے ٹریکٹ کی صورت میں شائع کیا تھا۔اس کو محفوظ کرنے کے لئے نیز احباب کے فائدہ کے لئے اس کو ذیل میں تحریر کیا جا تا ہے۔نمبرا۔مذہب راستہ کو کہتے ہیں۔جس کے ذریعہ انسان منزل مقصود تک پہنچتا ہے۔عقل اس ضرورت کو محسوس کرتی ہے کہ انسان کے مقاصدِ حیات میں سے جو بھی مقصد ہو اس تک پہنچنے کے لئے کوئی راہ جو ذریعۂ حصولِ مقصد ہوضرور ہونی چاہیئے۔نمبر ۲۔انسان اپنی زندگی کے قیام اور بقا کے لئے بہت سے اسباب اور سہاروں کا محتاج ہے۔جس طرح انسان کا اپنا جسم مع ذات جسم کے اور اس کی اپنی روح مع قومی و حواس کے اس کی اپنی پیدا کردہ نہیں اسی طرح وہ اسباب اور وہ سہارے کہ جن پر اس کی زندگی کے قیام و بقاء کا مدار ہے۔وہ بھی اس کے اپنے پیدا کردہ نہیں اور نہ خرید کردہ ہیں اور نہ مانگ کر ہی اس نے لئے ہیں کیونکہ انسان کی پیدائش سے بھی پہلے کے یہ پیدا شدہ ہیں۔نمبر ۳۔غور کرنے سے ہمیں نظام عالم میں ایک گہرا تعلق اور مضبوط رابطہ معلوم ہوتا ہے مثلاً آنکھ کا سورج سے تعلق ہے۔کان کا فضا (ہوا) سے۔کیونکہ آنکھ بغیر سورج کی روشنی کے بریکا ر رہتی ہے اور