حیات قدسی — Page 545
۵۴۵ کان بھی ہوا کے ذریعہ ہی کلام سنتے ہیں اور پھیپھڑے اور قلب کے لئے ہوا باعث حیات ہے۔ایسا نظام کامل جو علم اور قدرت کے انتظام کا مقتضی ہے ایک ہستی کے وجود کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے جو کامل علم اور کامل قدرت والی اور ہر پہلو سے اپنی شان میں بے نظیر اور بے مثال ہو۔نمبر ۴۔انسان خود تو اپنے ارادہ اور اپنے اختیار سے پیدا نہیں ہوا کہ اپنی زندگی کا مقصد خود مقرر کر سکے بلکہ انسانی زندگی کا مقصد مقرر کرنا اسی کا حق ہے کہ جس نے اسے پیدا کیا ہے۔نمبر ۵۔انسان اپنے جوانج کے لئے ذرہ ذرہ کا محتاج ہے جو اس کے خالق نے اس کی پیدائش سے بھی بہت پہلے پیدا کر دئیے ہوئے ہیں۔کائناتِ عالم کے تمام ذرات اور ان کے خواص کا اس کی خدمت کو بجالانا اس کے پیدا کرنے والے کی ان گنت نعمتوں میں سے ہے جس سے ظاہر ہے کہ انسان کا خالق اس کے لئے کتنا بڑا احسن ہے اور محسن کے احسانات کی حسب منطوق جُبِلَتِ الْقُلُوبُ عَلَى حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ إِلَيْهَا 51۔کہ دل احسان کرنے والے کی محبت کے احساس پر پیدا کئے گئے ہیں۔قدر کرنا اور اس سے محبت کرنا اس کا فطری مذہب ہے۔نمبر ۶۔انسان اگر چہ اپنی فطرت کی رو سے عقل اور علم و عرفان کے حصول کے لئے اپنے اندر اعلیٰ استعداد رکھتا ہے لیکن جس طرح وہ جسمانی نشو ونماء اور ظاہری تربیت کے لئے والدین اور دوسرے اسباب کا محتاج ہے اسی طرح عقل اور علم و عرفان کے حصول کے لئے بھی اساتذہ اور مربیان ہدایت کا محتاج ہے اور جس طرح با وجود عقل اور علم رکھنے کے ایک بی۔اے اور ایم۔اے کی قابلیت کا انسان با وجود روشن دماغ اور چشم بینا کے زمینی راستے جو آنکھ سے نظر آتے ہیں اور بدیہات اور مشاہدات کی چیز معلوم ہوتے ہیں۔جب تک واقف انسان نہ بتائے خود بخود معلوم نہیں کر سکتا اور یہی وجہ ہے کہ جن چیزوں کے انسان نام سیکھتا ہے یا علوم حاصل کرتا ہے خواہ وہ طب ہو خواہ فلسفہ اور حکمت یا ریاضی اور تواریخ وغیرہ ہو۔ان کے حصول کے لئے استادوں کی تعلیم اور رہنمائی کا محتاج ہے اور جو کچھ اس نے سیکھا ہے اگر استادوں سے نہ سیکھتا تو خود بخود اس کا سیکھنا اس کے لئے سخت مشکل اور دشوار ہوتا بلکہ وہ زبان اور نطق و گویائی جس کے ذریعے انسان پوچھ کر علم حاصل کرتا ہے اگر اسے یہ بولی اور زبان سے کلام کرنا بھی دوسروں کے ذریعے حاصل نہ ہوتا تو اکبر بادشاہ کے گنگ محل کے آزاد طبع انسانوں کی طرح صرف حیوانوں کی آواز اور شور و غوغا سے بڑھ کر اور کچھ جو ہر ظاہر نہ کر سکتا۔