حیات قدسی — Page 543
۵۴۳ (٤) فعيل الخلة فعلان رحمت وبينهما التناسب والولاء ان اشعار کے علماء کی خواہش پر میں نے مندرجہ ذیل حل پیش کئے۔(۱) پہلے شعر میں اسم علی کو بطور معمہ پیش کیا گیا ہے اس کے معنے ہیں۔اے میری جان آنکھ کھول اور اپنی زلف کے بیچ کوشکن نما بنا کے دکھاتا تیرے اس جلوہ حسن سے میرے سوختہ دل کو تسکین ہو۔کے اس شعر میں شاعر نے اشارہ مرموزہ سے اپنے محبوب علی کا نام پیش کیا ہے اور وہ اس طرح کہ علی نام کا پہلا حرف عین ہے اور حرف عین کو حرکت فتح سے مفتوح ظاہر کرنے کے لئے لفظ بکشا استعمال کیا گیا ہے چشم کا ترجمہ مین اور بکشاء کا ترجمہ افتح ہے یعنی حرف مین کو فتح دے۔اور زلف جو سر کے بال ہیں اس کو حرف لام سے تشبیہ دی ہے اور بشکن کے معنی عربی زبان میں اسحہ ہیں۔جس کے معنی کسرہ یعنی زیر دینے کے بھی ہیں۔اور بریان کا درمیانی حرف "ي" ہے جو بریان کے پانچوں حرفوں میں سے درمیان میں ہے جس طرح دل جسم کے درمیانی حصہ میں ہے اور تسکین سے سکون دینے کی طرف اشارہ کیا ہے گویا اس محبوب کا نام ع ل ي تين حرفوں پر مشتمل ہے۔جن میں سے پہلا حرف مفتوح دوسرا مکسور اور تیسرا ساکن ہے اور یہ نام علی ہے۔(۲) دوسرے شعر کا ترجمہ یہ ہے کہ حرف میم سے دومیم لئے جائیں اور لفظ خذ جو فعل امر ہے پر نقطے نہ لگائے جائیں یعنی خ اور ذ کے نقاط کو دور کیا جائے۔باقی ح اور درہ جائیں گے۔اس طرح تجھے میرے محبوب اور قابل فخر ہستی کے نام کا علم ہو جائے گا۔اگر ایک میم حرف ح سے پہلے اور دوسرا میم حرف ”د“ سے پہلے منظم کیا جائے تو محمد کا نام بنتا ہے جو میرا محبوب اور میرے لئے قابل فخر ہے۔(۳) تیسرے شعر کا ترجمہ ہے کہ میرے دوست کے نام کے حروف پانچ ہیں اگر ایک حرف کو دور کیا جائے تو آٹھ ہو جاتے ہیں۔اس معمہ میں عثمان کا نام پیش کیا گیا ہے۔جس کے پانچ حروف ہیں اور اگرع کو دور کیا جائے تو باقی نمان یعنی آٹھ رہ جاتا ہے۔(۴) چوتھے شعر میں خلیل الرحمن کے نام کو پیش کیا گیا ہے یعنی الخلق کو اگر فعیل کے