حیات قدسی — Page 525
۵۲۵ مصلح موعود کی پیشگوئی کے مصداق ٹھہرتے ہیں۔اور دوشنبہ کے ساتھ مبارک کا لفظ اس لئے بڑھایا گیا ہے کہ ہفتہ کا دن زحل ستارے سے نسبت رکھتا ہے جو آسمان ہفتم کا ستارہ ہے اور ماہرین علم نجوم اسے دوسرے ستاروں کی نسبت جلالی اور قہری تجلیات والا ستارہ قرار دیتے ہیں اور قہری حوادث سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اسے منحوس قرار دیتے ہیں۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ کے صفحات ۱۸۰ تا ۱۸۳ میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے ضمن میں ستاروں کی اس تاثیر کا ذکر فرمایا ہے۔اور خود المصلح الموعود کا ایک صفاتی نام عالم کباب بھی ہے۔جس کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فر ماتے ہیں :۔عالم کباب سے یہ مراد ہے کہ اس کے پیدا ہونے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔دنیا پر ایک سخت تباہی آئے گی۔گویا دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔اس وجہ سے اس لڑکے کا نام عالم کباب رکھا گیا۔غرض وہ لڑکا اس لحاظ سے کہ ہماری دولت اور اقبال کی ترقی کے 66 لئے ایک نشان ہوگا بشیر الدولہ کہلائے گا اور اس لحاظ سے کہ مخالفوں کے لئے قیامت کا نمونہ ہو گا عالم کباب کے نام سے موسوم ہو گا۔40 پس یہ جلالی شان زحل ستارے کی نسبت سے ظاہر کرتی ہے کہ مصلح موعود کی پیدائش اور خلافت کا ہفتہ کے روز ہی مقدرتھی اور چونکہ منجمین کے نزدیک یہ ستارہ نحس سمجھا جاتا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے مبارک کا لفظ الہام میں رکھا تا کہ یہ ظاہر ہو کہ المصلح الموعود کا وجود جلالی شان اور قہری نشانات رکھنے کے باوجود بہت ہی بابرکت اور موجب رحمت ہے۔میرا یہ بیان سن کر مکرمی ماسٹر گوہر صاحب کہنے لگے کہ اچھا اب معلوم ہوا کہ دو شنبہ سے کیا مراد ہے۔میں نے کہا کہ یہ تاویل میں نے آپ کی توضیح کے مطابق کی ہے ورنہ ہوسکتا ہے کہ سیدنا المصلح الموعود ایدہ اللہ تعالیٰ کی زندگی کے آئندہ واقعات میں کو ئی عظیم الشان نشان سوموار کے دن ظہور میں آجائے۔چنانچہ الہام يوم الاثنين و فتح الحنين “ سے معلوم ہوتا ہے فتح حنین کے مشابہ کوئی عظیم الشان نشان سوموار کو ظہور میں آئے گا۔اور تذکرہ ص ۱۴ اپر اس طرح مرقوم ہے:۔بعالم کشف چند ورق ہاتھ میں دیئے گئے اور ان پر لکھا ہوا تھا کہ فتح کا نقارہ