حیات قدسی

by Other Authors

Page 524 of 688

حیات قدسی — Page 524

۵۲۴ ان پر اور دوسرے حاضرین مجلس پر اچھا اثر ہوا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَىٰ ذَالِكَ مبارک دوشنبه ۱۹۴۷ء کے جلسہ سے فارغ ہو کر خاکسار سیدی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کے ارشاد کے ماتحت بعض تربیتی امور کی سرانجام دہی کے لئے لالہ موسیٰ ٹھہرا۔وہاں پر مکرمی ماسٹر نعمت اللہ خان صاحب گوہر بھی کسی رشتہ دار کو ملنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔میری آمد کے متعلق سن کر میری ملاقات کے لئے آگئے اور فرمانے لگے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ” دوشنبہ ہے مبارک دو 89 المصلح الموعود کے لئے بطور علامت کے ہے لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ کی پیدائش ہفتہ یعنی شنبہ کے دن ہوئی اور آپ خلیفہ بھی ہفتہ کے دن ہوئے اور دوشنبہ یعنی سوموار سے آپ کا کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا۔پس آپ کس طرح مصلح موعود ہوئے۔شنبه میں نے کہا کہ آپ نے تو اپنی تشریح سے ثابت کر دیا ہے کہ سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ الودود مصلح موعود کی پیشگوئی کے مصداق ہیں۔جب حضور کی ولادت شنبہ کو ہوئی اور آپ مسند خلافت پر بھی شنبہ کے دن بیٹھے تو یہ دو مبارک شنبہ ہوئے۔ایک شنبہ ولادت کا اور دوسرا شنبہ خلافت کا اور یہ دونوں دن ہی باعث صد مبارک اور مسرت ہیں۔اس پر ماسٹر گو ہر صاحب فرمانے لگے کہ لیکن عربی میں جہاں اس پیشگوئی کا ذکر ہے وہاں پر یہ الفاظ ہیں۔يوم الاثنين فواها لک یا یوم الاثنین اور یوم الاثنین سوموار کے دن کو کہتے ہیں نہ کہ ہفتہ کے دن کو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصلح موعود کی پیدائش کا دن سوموار ہے نہ کہ ہفتہ۔میں نے عرض کیا ”یوم الاثنین " کے لفظ کے اندر دونوں طرح کے مفہوم پائے جاتے ہیں۔اس کے عام معروف معنی تو سوموار کے دن کے ہیں۔لیکن اثنین اور یوم کی اضافت کی رُو سے اس سے مراد دو امور سے تعلق رکھنے والے دن کے ہیں اور وہ دوا مور المصلح الموعود کا تولد اور خلافت ہیں۔جن کا تعلق یعنی ہفتہ سے ہے اور اگر دوسرے تائیدی قرائن مثلاً مصلح موعود کے اسماء مبارکہ میں سے محمود، فضل، فضل عمر، بشیر ثانی ، کلمتہ اللہ عالم کباب وغیرہ کو سامنے رکھتے ہوئے سیدنا حضرت خلیفۃ الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ذات صفات اور افعال پر روشنی ڈالی جائے تو آپ ہی ہے