حیات قدسی — Page 434
۴۳۴ یا در ہا اور اپنی شرمگاہوں کو ڈھانپنا جو فرض تھا اور سنت سے بھی زیادہ ضروری تھا۔وہ یاد نہ رہا۔سو میں نے جو کچھ پتی کی ہے وہ سنت کی وجہ سے نہیں کی بلکہ فرض کے ترک کرنے کی وجہ سے کی ہے۔میں اوپر کی مثال جو سادہ مزاج عورت نے ترک فریضہ کے ساتھ عملِ سنت کے متعلق دکھائی موجودہ زمانہ کے علماء مخالفین پر چسپاں کیا کرتا ہوں۔جو اسلامی تعلیم کے خلاف عقاید اور اعمال اور اخلاق کا نمونہ رکھتے ہوئے احمد یہ جماعت کے عین مطابق اسلامی تعلیم نمونہ کے متعلق لوگوں کو دھو کہ دیتے ہیں۔اور احمدیوں کو کافر اور گمراہ قرار دیتے ہیں۔چنانچہ اس بارہ میں بار ہا علماء سے مناظرات اور مباحثات ہوئے اور مختلف مجالس میں ان سے گفتگو کرنے کا موقع ملتا رہا۔وہ اپنی کورانہ تقلید اور خیالات فاسدہ اور اوہام باطلہ کی وجہ سے قرآن کریم کی صحیح تعلیم کے خلاف لوگوں سے غلط باتیں منواتے اور عمل کراتے ہیں۔غور کرنے سے ان علماء سوء کا حال بد اس سادہ مزاج عورت سے بھی بدتر ہے۔کیونکہ اس عورت نے تو سنت پر عمل کرنے سے فرض پر عمل کرنے کو جو ستر اور پردہ سے تعلق رکھتا تھا، ترک کیا۔لیکن یہ علماء سوء خیالات فاسدہ اور اوہام باطلہ جو قرآن کریم کی تعلیم کے صریح خلاف اور فتیح اعوج کے تاریک دور کی پیداوار ہیں۔ان کی وجہ سے اسلام کی مقدس اور مطہر تعلیم کو ترک کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت کے قبول کرنے کی توفیق دے۔آمین ! نسخه اکسیری ایک عرصہ کی بات ہے کہ میں بھیرہ میں بسلسلہ تبلیغ مقیم تھا وہاں پر علاوہ درس و تدریس اور تعلیمی و تربیتی مجالس کے مختلف مختلہ جات میں تبلیغی جلسے بھی کئے جاتے۔جن کا اعلان بذریعہ منادی کرایا جاتا۔ایک دن ہم پراچہ قوم کے محلہ میں بغرض جلسہ جمع ہوئے۔میری تقریر نماز عشاء کے بعد تین گھنٹہ تک ہوئی۔جب تقریر سے فارغ ہو کر میں اپنی قیام گاہ پر جانے لگا تو ایک نوجوان میرے ساتھ ہو لیا۔اور قیام گاہ پر پہنچ کر میرے پاؤں دبانے لگا۔چونکہ مجھے اس سے تعارف نہ تھا۔اس لئے میں نے یہی سمجھا کہ وہ احمدی ہے۔اور بوجہ عقیدت و حسنِ ظنی خدمت کر رہا ہے۔جب میں نے دریافت کیا کہ آپ کب سے احمدی ہوئے ہیں۔تو اس نے بتایا کہ میں احمدی نہیں بلکہ حنفی خیالات کا مسلمان