حیات قدسی

by Other Authors

Page 433 of 688

حیات قدسی — Page 433

۴۳۳ ڈھاب کے کنارے آکر بیٹھ جانا میری مدت کی خواہش کو جو اونٹ والی سنت پر عمل کرنے کے متعلق میرے دل میں پائی جاتی تھی پورا کرنے کے لئے ہے۔اب میں اونٹ کی سواری کی سنت پر عمل کرنے کے ثواب سے محروم نہ رہوں گی۔ساتھ ہی اس کے دل میں یہ خیال بھی آیا کہ اس وقت کوئی آدمی تو قریب نظر نہیں آتا اور اس سواری سے مجھے اور زیادہ غرض بھی نہیں سوائے سنت کے پورا کرنے کی خواہش کے، اس لئے میں جلدی سے اونٹ پر بیٹھ کر پھر اُتر آؤں گی اور یہ بھی خیال آیا کہ غسل کے بعد کپڑے پہنے لگ جاؤں تو شاید اونٹ ہی اٹھ کر چلا جائے۔اس لئے غسل کرنے کے بعد بغیر لباس بحالتِ عریانی ہاتھ میں کپڑے دھونے والا سوٹا لے لیا کہ اگر اونٹ اٹھنے لگا تو سوٹا مار کر بیٹھا لوں گی۔اسی حالت میں وہ اونٹ پر سوار ہوگئی۔اس کا سوار ہونا ہی تھا کہ اونٹ اٹھ بیٹھا اور جب عورت نے اونٹ کو بٹھانے کی غرض سے سوٹا مارا تو بجائے بیٹھنے کے اونٹ دوڑ پڑا اور سیدھا شادی والے گھر جا پہنچا۔جہاں کثیر التعداد لوگوں کا مجمع تھا۔اب لوگ حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ اونٹ پر مادر زاد عریانی کی حالت میں ایک عورت سوار ہے۔جب اس کے شوہر نے جو وہاں مجمع میں ہی موجود تھا دیکھا کہ عریانی کی حالت میں اس کی بیوی اونٹ پر سوار ہے تو وہ شرم کے علاوہ غیرت اور غیظ وغضب سے بھر گیا۔اس کو ٹانگ سے پکڑ کر اونٹ سے نیچے گرایا۔اور وہی سوٹا جوعورت کے ہاتھ میں تھا لے کر عورت کو مارنا شروع کر دیا۔اور مکان کے اندر لے گیا اور اوپر کپڑا ڈال کر اس کا ستر ڈھانپا۔وہ عورت مار کی وجہ سے بے تاب ہو کر چلاتی اور چیچنی تھی۔جب ادھر اُدھر کی ہمسایہ عورتیں بھی یہ خبر سن کر اس کے ہاں پہنچیں اور دریافت کیا کہ یہ کیا معاملہ ہے اور تمہارے شوہر نے اس قدر شدید ز دوکوب کیوں کیا ہے۔تو وہ سادہ مزاج عورت روتی ہوئی بیان کرنے لگی کہ اس ظالم خاوند نے مجھے محض سنت رسول پر عمل کرنے سے مار مار کر مجروح اور زخمی کر دیا ہے۔اور میری ہڈیاں توڑ ڈالی ہیں۔اس پر ہمسایہ عورتوں نے اس کے شوہر سے کہا۔بھائی ! آپ نے اتنا ظلم اور اتنی سختی کی۔وہ بیچاری اونٹ کی سواری کی سنت پر عمل کرنے کی خواہش کو پورا کرنے لگی تھی۔آپ نے سنتِ رسول کی وجہ سے اتنے تشدد سے کام لیا کہ اسے زخمی کر دیا۔خاوند نے جواب میں کہا کہ یہ احمق عورت ، سادہ مزاج اور بے وقوف ، بار بار سنت سنت کا نام لے کر مجھے بدنام کرتی ہے اور پوچھنے والوں سے بیان کرتی ہے کہ میں نے سنت کی وجہ سے اس کو مارا ہے۔اسے پوچھنا چاہیئے کہ اس احمق کو سنت پر عمل کرنا