حیات قدسی — Page 29
۲۹ رات کو بغیر کھانا کھائے ہی مسجد میں آکے سو گیا۔جب سحری کے قریب وقت ہوا تو مولوی غوث محمد صاحب مسجد میں میرے پاس پہنچے اور معافی مانگتے ہوئے مجھے کہنے لگے۔خدا کے لئے ابھی حضرت مرزا صاحب کو میری بیعت کا خط لکھو ورنہ میں ابھی مر جاؤں گا اور دوزخ میں ڈالا جاؤں گا۔میں نے جب ان کا احمدیت کی طرف رجوع دیکھا تو حیران ہو کر اس کی وجہ دریافت کی۔مولوی صاحب نے بتایا کہ رات میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ قیامت کا دن ہے اور مجھے دوزخ میں ڈالے جانے کا حکم صادر ہوا ہے اور اس کی تعمیل کرانے کے لئے میرے پاس بڑی بھیا تک شکل کے فرشتے آئے ہیں۔اور ان کے پاس آگ کی بنی ہوئی اتنی بڑی بڑی گرزیں ہیں جو بلندی میں آسمان تک پہنچتی ہیں۔انہوں نے مجھے پکڑا ہے اور کہتے ہیں کہ تم نے مسیح موعود اور امام زمانہ کی شان میں گستاخی کی ہے اس لئے اب دوزخ کی طرف چلو اور اس کی سزا بھگتو۔میں نے ڈرتے ہوئے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ میں تو بہ کرتا ہوں آپ مجھے چھوڑ دیجئے۔انہوں نے کہا اب تو بہ کرتا ہے اور مجھے مارنے کے لئے اپنا گرز اٹھایا جس کی دہشت سے میں بیدار ہو گیا اور اب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کہ خدا کے لئے آپ میرا قصور معاف فرما ئیں اور حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں میری بیعت کا خط لکھ دیں۔چنانچہ اس خواب کی بناء پر آپ احمدی ہو گئے اور اس کے بعد ہم دونو کی تبلیغ سے اس گاؤں کے بیسیوں مرد اور عورتیں سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئیں۔فالحمد للہ علی ذالک الہی بشارت اور موضع خوجیانوالی کا واقعہ انہی ایام کا ذکر ہے کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ موضع را جیکی میں ہمارے مکان کی چھت پر اللہ تعالیٰ میری والدہ ماجدہ کے تمثل میں جلوہ فرما ہے اور مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحاً مُبِيْنَا اس بشارت الہی کے بعد موضع پادشہانی ضلع جہلم کا مولوی احمد دین جو احمدیوں کے خلاف لوگوں کو اشتعال دلانے میں حد درجہ زبان شر رکھتا تھا موضع خوجیانوالی جو ہمارے گاؤں سے تقریباً چار کوس کے فاصلہ پر واقع ہے آیا اور آتے ہی اس نے اپنی تقریر میں کہا کہ جن دیہات میں مرزائی پائے جاتے ہیں وہ اس کنویں کی طرح ہیں جس میں خنزیر پڑا ہوا ہو۔پس اگر گاؤں والے گاؤں کو اور اپنے آپ کو پاک رکھنا چاہتے ہیں تو ان مرزائیوں کو نکال باہر دیں۔اس قسم کی تقریروں کا سلسلہ جب