حیات قدسی — Page 28
۲۸ درمیانی شب قبر میں ڈالا جائے گا۔چنانچہ میں نے بیدار ہوتے ہی قلم اور دوات منگوائی اور یہ الہام الہی ایک کاغذ پر لکھا اور اسی گاؤں کے بعض غیر احمدیوں کو دے دیا اور انہیں تلقین کی کہ اس پیشگوئی کو تعیین موت کے عرصہ سے پہلے ظاہر نہ کریں۔اس کے بعد میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بارگاہ اقدس میں چلا آیا اور یہیں رمضان المبارک کا مہینہ گزارا۔خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جب جان محمد بظا ہر صحت یاب ہو گیا اور جا بجا اس معجزہ کا چرچا ہونے لگا تو اس مرض نے دوبارہ حملہ کیا اور وہ ٹھیک شعبان کی انیسویں رات اس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔اس کے مرنے کے بعد جب ان غیر احمدیوں نے میری تحریر لوگوں کے سامنے رکھی تو ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی مگر افسوس کا ہے کہ پھر بھی ان لوگوں نے احمدیت کو قبول نہ کیا تہی دستان قسمت را چه سود سود از رهبر کامل که خضر از آب حیواں تشنه می آرد سکندر را موضع سعد اللہ پور کا واقعہ موضع سعد اللہ پور جو ہمارے گاؤں سے جانب جنوب کوئی تین کوس کے فاصلہ پر واقع ہے۔یہاں کے اکثر حنفی لوگ بھی ہمارے بزرگوں کے ارادتمند تھے۔اس لئے میں کبھی کبھار اس موضع میں تبلیغ کی غرض سے جایا کرتا تھا۔اور ان لوگوں کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت سمجھانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔اس موضع میں مولوی غوث محمد صاحب ایک اہلِ حدیث عالم تھے اور امرتسر کے غزنوی خاندان سے نسبت تلمذ رکھنے کی وجہ سے احمدیت کے سخت معاند اور مخالف تھے۔میں نے ایک روز ان کی موجودگی میں ظہر کے وقت مسجد میں لوگوں کو احمدیت کی تبلیغ کی اور انہیں بھی سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کچھ کتابیں اور رسالے مطالعہ کے لئے دیئے۔جب انہیں اس تبلیغ اور حضور اقدس کی کتابوں سے یہ علم ہوا کہ میں حضرت مرزا صاحب کو مسیح موعود او را مام مهدی تسلیم کرتا ہوں تو انہوں نے میرے حق میں بے تحاشہ مخش گوئی شروع کر دی اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات والا صفات کے متعلق بھی بہت گندا چھالا۔میں نے انہیں بہتر سمجھایا کہ آپ جتنی گالیاں چاہیں مجھے دے لیں لیکن حضرت اقدس علیہ السلام کی توہین نہ کریں مگر وہ اس سے باز نہ آئے۔آخر چار و ناچار میں تخلیہ میں جا کر سجدہ میں گر پڑا اور رو رو کر بارگاہ ایزدی میں دعا مانگی اور