حیات قدسی

by Other Authors

Page 30 of 688

حیات قدسی — Page 30

کچھ روز جاری رہا تو لوگوں میں ہر طرف ہماری عداوت کے شعلے بھڑک اٹھے اور ایک جمعہ کے دن جبکہ لوگ جمعہ پڑھنے کے لئے باہر سے بھی آئے ہوئے تھے اور اس طرح سے موضع خوجیا نوالی میں گردونواح کے ہزار ہا لوگوں کا اجتماع ہو گیا تھا۔اس مولوی نے لوگوں کو احمدیوں کے خلاف بہت اشتعال دلایا۔میں ان دنوں چونکہ تبلیغ کی غرض سے موضع رجوعہ اور موضع ہیلاں تحصیل پھالیہ گیا ہوا تھا۔اس لئے میرے بعد احمدی احباب اس مولوی کی فتنہ پردازیوں سے سخت خائف ہو گئے۔آخر بعض مولویوں کے یقین دلانے پر کہ مرزائیوں میں سے کوئی بھی مجمع میں تقریر کرنے کی جرات نہیں رکھتا۔جب مولوی احمد دین نے ہمارے احمدیوں کو مقابلہ کا چیلنج دیا تو اس علاقہ کے احمدیوں میں سے مولوی امام الدین صاحب اور مولوی غوث محمد صاحب وغیرھمانے ہمارے چوہدری مولا دا د وڑائچ احمدی ساکن لنگھ کو میرے بلانے کے لئے موضع ہیلاں بھیجا۔چنانچہ میں اطلاع پاتے ہی گھوڑی پر سوار ہو کر موضع خوجیا نوالی پہنچ گیا۔اور آتے ہی ایک عربی خط لکھ کر مولوی احمد دین کے پاس بھیجا۔جسے وہ اپنی کم علمی کی وجہ سے پڑھنے سے قاصر رہا اور جیب میں ڈالتے ہوئے میری طرف پیغام بھیجا کہ آپ یہاں آ کر منبر پر چڑھ کر تقریر کریں۔چنانچہ میں بمع احباب وہاں پہنچتے ہی منبر کے قریب گیا اور اسے کہا کہ آپ منبر سے نیچے اتریں میں تقریر کرتا ہوں تو اس نے انکار کیا اور کہا کہ رسول کی منبر پر میں کا فر کو تقریر نہیں کرنے دوں گا۔اور اس طرح اس نے مجھے تقریر کرنے سے روک دیا۔اور حضور اقدس علیہ السلام کی کتاب ازالہ اوہام نکال کر انا انزلناه قريباً من القادیان کے الہام پر اعتراضات شروع کر دیے اور اس کی جہالت کا نمونہ یہ تھا کہ لفظ دائیں کو دائین بنون موقوف پڑھا۔جب میں نے جوابات دے کر لوگوں پر اس کی بے علمی کو واضح کیا تو اس نے اپنی خفت مٹانے کے لئے مجھے ایک تھپڑ مارا جو میرے منہ کی بجائے میرے عمامہ پر لگا اور وہ میرے سر سے کچھ سرک گیا۔اس بدتمیزی کو دیکھ کر حاضرین میں سے چوہدری جان محمد نمبر دار وڑائچ اور چوہدری ہست خاں مانگٹ اٹھے اور اس مولوی کو بہت ہی ڈانٹا اور ملامت کی اور جتنا مجمع تھا منتشر ہو گیا۔اس موقع پر خدا تعالیٰ کے فضل سے چند منٹوں میں ہی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام اور دعویٰ کا اعلان ہزار ہا لوگوں تک پہنچ گیا اور اس مولوی کی بے علمی اور بدتمیزی واضح ہوگئی۔دوسرے دن جب مجھے معلوم ہوا کہ مولوی احمد دین ابھی اسی گاؤں کی ایک مسجد میں ہے تو میں نے یہاں کے نمبر دار چوہدری جان محمد کو کہا کہ میں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کو قرآن مجید اور احادیث اور اسلام کی رُو سے تسلیم کر کے