حیات قدسی — Page 360
سکتا۔میرے نزدیک اس اجنبی شخص سے ڈر کر تبلیغ نہ کرنا شرک کی ایک قسم ہے۔اگر ہم اس شرک کی حالت میں مر گئے تو ہماری عاقبت تباہ ہو گی لیکن اگر ہم تبلیغ کرتے ہوئے مارے گئے تو ہمارا خاتمہ بالایمان ہو گا اور ہماری موت شہادت کی موت ہوگی۔پس آپ بیشک خاموش رہیں۔میں تو اپنے ایمان اور یقین کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا نام اور پیغام تمام برکتوں کا باعث ہے۔میری یہ بات سن کر عزیز موصوف خاموش ہو گئے۔وہ مہیب شکل اجنبی جو برابر کی سیٹ پر اپنا سامان رکھنے کے بعد بیٹھ چکے تھے۔مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے کہ آپ کہاں سے آئے ہیں۔میں نے عرض کیا ہم مالا بار سے آرہے ہیں۔آج صبح مدراس سے گاڑی کو میں سوار ہوئے تھے۔انہوں نے دریافت کیا کہ آپ مالا بار کس غرض کے لئے گئے تھے۔میں نے عرض کیا۔کہ ہم مالا بار بغرض تبلیغ گئے تھے اور اصل وطن ہما را قادیان مقدس صوبہ پنجاب میں ہے۔جہاں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مبعوث ہوئے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت اور خلافت میں منصب امامت در سالت عطا کیا ہے اور اس زمانہ میں مسیح موعود اور مہدی معہود کے مقام پر فائز کیا ہے۔انہوں نے دریافت کیا کہ علاقہ مالا بار میں آپ کی تبلیغ سے کوئی احمد بیت میں داخل ہوا ہے۔میں نے عرض کیا کہ خدا کے فضل سے پچاس کے قریب افراد داخل سلسلہ ہوئے ہیں۔ویسے مالا بار میں سینکڑوں کی تعداد میں جماعت موجود ہے۔پھر میں نے پوچھا۔کیا آپ ریاست حیدر آباد کے رہنے والے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ دراصل میں یو پی کا رہنے والا ہوں اور علاقہ نظام میں تحصیلدار کے عہدہ پر فائز ہوں میرا حلقہ گلبرگہ کے قریب پڑتا ہے۔اس لئے میں عرس میں شامل ہو کر ضروری انتظامات میں حصہ لیتا رہا۔اب میں رخصت پر اپنے وطن جا رہا ہوں۔اس کے بعد معذرت کرتے ہوئے انہوں نے اپنی جیب سے پانسو منکے کی تسبیح نکال کر وظیفہ کرنا چاہا۔میں نے عرض کیا کہ یہ شغل نہایت ہی بابرکت ہے۔فرصتة باخلق باند فرصتی با خالقے ایس چنیں زیبا روش باشد پٹے ہر عاشقے اس پر کہنے لگے۔پھر فرمائیے گا۔میں نے شعر کو دوہرایا۔اور عرض کیا کہ انسان کے وجود کے دو