حیات قدسی

by Other Authors

Page 361 of 688

حیات قدسی — Page 361

ہی حصے ہیں۔ایک جسم۔دوسرے روح۔جسم کا تعلق ظاہر سے ہے اور روح کا باطن سے مخلوق ظاہر ہے اور خالق باطن۔اسلام کی تعلیم بھی بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ کے ارشاد کے ماتحت دو ہی حصوں پر مشتمل ہے۔اول یہ کہ انسان اپنے خالق کے لئے مسلم اور فرمانبردار رہے اور اس کی مخلوق کے ساتھ بھلائی اور احسان کرے۔یعنی ایک طرف مخلوق کے ساتھ احسان کا تعلق رکھے۔اور دوسری طرف مسلم کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر واذ کارا اور عبادت کرے اور فرمانبردار رہے۔اور اس طرح حسناتِ دنیا اور حسناتِ آخرت کو حاصل کرنے والا ہو۔المختصر انسان کی زندگی کے اہم مقصد دوہی ہیں۔کبھی وہ خلق کی خدمت میں لگا ہوا ہوا ور کبھی خالق کے سامنے جھکا ہوا ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ بھی انہی دونوں مقاصد کو لئے ہوئے تھا۔کبھی فَصَلِّ لِرَبِّكَ کے ارشاد کے ماتحت ذکر الہی کے لئے نماز پڑھتے اور کبھی وَانْحَر کے ارشاد کے ماتحت جو خدا تعالیٰ کی طرف سے انفسی اور آفاقی طاقتیں اور قوتیں حاصل تھیں انہیں مخلوق خدا کی تعلیم و تربیت اور اصلاح و ترقی کی غرض سے قربان کرتے۔میری باتیں سن کر وہ بہت مسرور ہوئے۔اور کہنے لگے آپ کی باتیں بہت ہی دلچسپ ہیں۔اور معرفت کا رنگ رکھتی ہیں۔پھر فرمانے لگے کہ آپ چونکہ علیل ہیں اس لئے آپ کے رفیق سفر اگر میری سیٹ پر آکر بیٹھیں تو آپ کو آرام رہے گا۔اس کے بعد انہوں نے تین گھنٹے تک وظیفہ کیا۔بہت سے اسٹیشنوں کو چھوڑنے کے بعد جب گاڑی ٹھہری تو اس وقت اڑھائی بجے بعد دوپہر کا وقت تھا۔ہم نے صبح سے کچھ نہ کھایا تھا۔گاڑی رکتے ہی عزیز عرفانی صاحب فوراً اتر گئے۔تا کچھ کھانے کے لئے لائیں۔جب عزیز موصوف گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم پر گئے۔تو وہ اجنبی مجھ سے دریافت کرنے لگے کہ آپ کے ساتھی کہاں گئے ہیں میں نے کہا کہ وہ کھانا لینے کے لئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھانا تو میرے پاس با افراط موجود ہے جو دو دن کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔میں نے شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب تو وہ جاچکے ہیں۔ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ عزیز موصوف واپس آئے اور کہنے لگے کہ اسٹیشن پر بہت سے فوجی سپا ہی اترے ہوئے ہیں ، جس کی وجہ سے کھانا ختم ہو چکا ہے۔یہ سن کر وہ صاحب بہت خوش ہوئے۔