حیات قدسی

by Other Authors

Page 359 of 688

حیات قدسی — Page 359

۳۵۹ ملے۔ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ علاج اس شرط پر کیا جائے گا کہ مریض کے پاس کوئی تیمار دار نہ رہے۔جب اس شرط سے حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کو بذریعہ تا را طلاع دی گئی تو حضور نے اجازت نہ دی اور فرمایا کہ یہ امریکن ڈاکٹر پہلے پادری رہ چکے ہیں۔اور یہ لوگ جہاں جاتے ہیں ان کو اس ملک کے حالات اور اہل مذاہب کے متعلق واقفیت بہم پہنچائی جاتی ہے۔اور امریکن مشنریوں کو احمد یہ جماعت سے بخوبی واقفیت ہے۔ایسا نہ ہو کسی اثر کے ماتحت احمدی مبلغ کے علاج میں کسی قسم کی کوتا ہی کریں۔لہذا حضور نے ارشاد فرمایا کہ پانی پت آکر حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب۔علاج کروایا جائے۔جب ہم مدراس میں مقیم تھے تو مکرم و محترم جناب حکیم خلیل احمد صاحب جو ان دنوں بمبئی میں مبلغ تھے، کا خط آیا کہ بمبئی میں ایک فاضل یہودی آیا ہے جس کو میں کے قریب زبانوں کی واقفیت ہے۔اور عربی زبان کا بھی ماہر ہے۔اس نے بعض سوالات قرآن کریم کے متعلق علماء اسلام سے کئے ہیں۔لیکن علماء نے اس کو جواب نہیں دیا۔بلکہ سب وشتم سے کام لے کر اس کو اسلام سے بدظن کر دیا ہے۔شہر میں اس فاضل یہودی کے سوالات اور علماء کی نا پسندیدہ روش کا عام چر چا ہے۔اس لئے آپ پانی پت جاتے ہوئے چند روز بمبئی میں قیام کر کے اس یہودی فاضل کے سوالات کے جواب دیتے جائیں۔چنانچہ ہم مدر اس سے بمبئی کے لئے ڈاک گاڑی پر سوار ہوئے۔مسیح پاک کے نام اور پیغام کی برکت جب ہم گلبرگہ اسٹیشن پر پہنچے تو اچانک ہمارے ڈبہ میں ایک لحیم و شحیم آدمی آ گھسا۔اس کے کر یہ اور مہیب چہرہ کو دیکھ کر ہیبت طاری ہوتی تھی۔میں بوجہ علالت لیٹا ہوا تھا اور سامنے دوسری سیٹ پر عرفانی صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔جب وہ شخص اندر داخل ہوا تو عزیز موصوف اٹھ کر میری سیٹ پر آئے۔اور کان میں کہنے لگے کہ آپ کی طبیعت بہت علیل ہے۔اور ہم سفر کی حالت میں ہیں۔آپ کی عادت تبلیغ کرنے کی ہے اس شخص کو تبلیغ نہ کرنا ایسا نہ ہو کہ ہمیں احمدی ہونے کی وجہ سے نقصان پہنچائے۔بہتر یہی ہے کہ ہم خاموشی کے ساتھ وقت کاٹ لیں۔میں نے عرض کیا کہ عزیز من! اگر آپ اس بات کا اظہار نہ کرتے اور ہم تبلیغ کے بغیر وقت گذار لیتے تو اور بات تھی۔لیکن اب تو ہماری خاموشی مخلوق کے ڈر کی وجہ سے ہوگی۔میں تو ہرگز ایسا نہیں کر