حیات قدسی — Page 22
۲۲ ”مولوی غلام رسول جوان صالح کراماتی 66 چنانچہ اس الہام الہی کے بعد جہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے بڑے بڑے مولویوں کے ساتھ مباحثات کرنے میں نمایاں فتح دی ہے وہاں میرے ذریعہ سید نا حضرت امام الزمان علیہ السلام کی برکت۔انداری اور تبشیری کرامتوں کا اظہار بھی فرمایا ہے جن کا ایک زمانہ گواہ ہے۔بعض انذاری و تبشیری کرامتوں کا ذکر موضع گڑ ہو کا واقعہ انہی ایام کا ذکر ہے کہ میں ایک مرتبہ موضع گڈ ہو جو ہمارے گاؤں سے قریباً ڈیڑھ کوس کے فاصلہ پر واقع ہے، گیا۔چونکہ اس گاؤں کے اکثر لوگ ہمارے خاندان کے حلقہ ارادت میں داخل تھے اس لئے میں نے یہاں کے بعض آدمیوں کو احمدیت کی تبلیغ کی اور واپسی پر اس موضع کی ایک مسجد کے برآمدہ میں اپنی ایک پنجابی نظم کے کچھ اشعار جو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد سے متعلق تھے لکھ دیئے۔اتفاق کی بات ہے کہ اس موضع کا نمبر دار چوہدری اللہ بخش اس وقت کہیں مسجد میں طہارت کر رہا تھا اس نے مجھے مسجد سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ لیا۔ادھر راستہ میں یہاں کے امام مسجد مولوی کلیم اللہ نے بھی مجھے دیکھا۔جب یہ دونو آپس میں ملے تو انہوں نے میرے جنون احمدیت کا تذکرہ کرتے ہوئے مسجد کے برآمدہ میں ان اشعار کو پڑھا اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ اب ہماری مسجد اس مرزائی نے پلید کر دی ہے۔یہ تجویز کیا کہ سات مضبوط جوانوں کو میرے پیچھے دوڑایا جائے جو میری مشکیں باندھ کر مجھے ان کے پاس لے آئیں اور پھر میرے ہاتھوں سے ہی میرے لکھے ہوئے اشعار کو مٹوا کر مجھے قتل کر دیا جائے۔چنانچہ انہوں نے اس منصو بہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سات جوانوں کو میرے پیچھے دوڑا دیا۔مگر اس زمانہ میں میں بہت تیز چلنے والا تھا۔اس لئے میں ان جوانوں کے پہنچنے سے پہلے ہی اپنے گاؤں آگیا اور وہ خائب و خاسر واپس لوٹ گئے۔دوسرے دن اسی گاؤں کا ایک باشندہ جو والد صاحب کا مرید تھا اور ان لوگوں کے بد ا ر ا دوں سے واقف تھا، صبح ہوتے ہی ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔والد صاحب نے اس کی باتیں سنتے ہی مجھے فرمایا کہ جب ان لوگوں کے تیرے متعلق ایسے ارادے ہیں تو احتیاط کرنی